مسلسل اپ ڈیٹس

حنا جاوید قتل کیس: اہلِ خانہ کا عدالتی کمیشن کا مطالبہ

راولپنڈی/لاہور: ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ حنا جاوید اگست 2026 میں راولپنڈی میں اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائی گئی تھیں۔ اہلِ خانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو کھلے خط میں پولیس تفتیش پر دوبارہ عدمِ اعتماد ظاہر کیا اور معاملے کی غیرجانبدار تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے فرانزک اور زیرالتواء ڈیجیٹل شواہد کا آزادانہ جائزہ مانگا ہے۔ پولیس نے جسم پر تشدد کے نشانات کی اطلاع دی، اور اس کیس میں حراست میں لیے گئے افراد میں مقتولہ کا شوہر اور گھریلو ملازم شامل ہیں، مگر مقدمہ زیرِ تفتیش و زیرِ سماعت ہے اور کسی ملزم کی عدالتی طور پر مجرم ٹھہرانے کا مرحلہ باقی ہے۔ پنجاب حکومت نے پہلے ہی تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی جو راولپنڈی کا دورہ اور جائے وقوعہ کا معائنہ کرچکی ہے، جبکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بھی متعلقہ پولیس حکام کو بریفنگ کے لیے طلب کیا ہے۔ اہلِ خانہ نے وزیراعلیٰ کے سائبر پر دیے گئے بیانات (ڈی این اے اور پولی گراف کے حوالے) پر اعتراض کیا اور کہا ہے کہ بعض شواہد کو مناسب وزن نہیں دیا جا رہا — یہ دعوے تفتیشی اور عدالتی عمل کے تحت قابلِ جانچ ہوں گے۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے

حنا جاوید قتل کیس: اہلِ خانہ کا عدالتی کمیشن کا مطالبہ | اردو ہیڈ لائنز