راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران تیز رفتار سکیورٹی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 48 دہشت گرد مارے گئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کارروائیاں مستونگ، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں کی گئیں، جبکہ سبی کے علاقے بھاگ میں ایک مقامی پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش بھی ناکام بنائی گئی۔
یہ اعداد و شمار اور واقعات کی تفصیل آئی ایس پی آر کے سرکاری بیان سے منسوب ہے۔ سکیورٹی نوعیت کے واقعات میں آزادانہ تصدیق اکثر فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد اور کارروائیوں کی تفصیلات کو فوج کے بیان کے طور پر ہی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فورسز نے مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں اور اس دوران اسلحہ اور دیگر مواد بھی برآمد کیا گیا۔ بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز، پولیس اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد انسداد دہشت گردی آپریشنز میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
سبی کے علاقے بھاگ میں پولیس اسٹیشن پر مبینہ حملے کی کوشش کا ناکام بنایا جانا اس سلسلے کی ایک اہم پیش رفت قرار دی گئی۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بلوچستان میں مقامی سطح پر سکیورٹی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، جبکہ بڑے یا پیچیدہ خطرات کے خلاف فوج اور دیگر وفاقی اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں خطرات کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔ تاہم کسی بھی فوجی کارروائی کے بعد زمینی صورتحال، شہری آبادی پر اثرات اور گرفتار یا ہلاک افراد کی شناخت سے متعلق مزید معلومات عموماً متعلقہ اداروں کی بعد کی بریفنگز میں سامنے آتی ہیں۔ موجودہ خبر میں بنیادی طور پر آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ 72 گھنٹوں کی مجموعی کارروائیوں اور 48 ہلاکتوں کے دعوے کو رپورٹ کیا گیا ہے۔




