کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے سرکاری صحت مراکز سے مسلسل غیر حاضر رہنے والے 72 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ صوبائی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق یہ کارروائی سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں عملے کی دستیابی بہتر بنانے اور طویل غیر حاضری کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے جاری احتسابی عمل کا حصہ ہے۔ حکام نے بتایا کہ صوبے میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی حاضری جانچنے کے لیے بائیومیٹرک نظام کے ساتھ مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی بھی استعمال کی جا رہی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق غیر حاضری کے خلاف کارروائی صرف ان 72 ڈاکٹروں تک محدود نہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 200 سے زائد ملازمین کو مسلسل غیر حاضر رہنے پر ملازمت سے نکالا جا چکا ہے، جبکہ مزید کیسز کی جانچ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری تنخواہ لینے کے باوجود ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے والے ملازمین کے خلاف محکمانہ قواعد کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے اور حاضری کے ڈیجیٹل ریکارڈ کو اس عمل میں اہم ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
صوبائی حکام کے مطابق بلوچستان میں صحت کی سہولتوں کا جغرافیائی پھیلاؤ اور دور دراز اضلاع میں افرادی قوت کی کمی پہلے ہی ایک بڑا انتظامی مسئلہ ہے۔ ایسے حالات میں تعینات عملے کی غیر حاضری سے مریضوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور بنیادی طبی خدمات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومت نے حاضری کی نگرانی کو روایتی رجسٹروں سے آگے بڑھا کر بائیومیٹرک تصدیق اور ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا ہے، تاکہ مرکزی سطح پر یہ دیکھا جا سکے کہ متعلقہ ڈاکٹر یا اہلکار اپنی مقررہ جگہ پر موجود ہے یا نہیں۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ صحت میں تنخواہوں اور افرادی قوت کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ایسے ملازمین کی نشاندہی کرنا ہے جو ریکارڈ میں موجود ہوں مگر عملی طور پر ڈیوٹی انجام نہ دے رہے ہوں۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس نوعیت کی نگرانی سے سرکاری وسائل کے ضیاع کو محدود کرنے اور دستیاب افرادی قوت کو مریضوں کی خدمت کے لیے مؤثر طور پر استعمال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
برطرفیوں کا فیصلہ انتظامی کارروائی ہے اور ہر ملازم کا معاملہ متعلقہ سروس قواعد اور محکمانہ ریکارڈ کے تحت دیکھا جاتا ہے۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ حاضری کے نظام کی نگرانی جاری رہے گی اور غیر حاضر عملے کے خلاف مزید کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس اقدام کی کامیابی کا اہم پیمانہ یہ ہوگا کہ دور دراز ہسپتالوں اور صحت مراکز میں ڈاکٹروں کی حقیقی موجودگی اور مریضوں کو دستیاب خدمات میں کتنا مستقل اضافہ ہوتا ہے۔
