گوادر میں بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فشریز نے مجوزہ بلوچستان فشریز اینڈ ایکواکلچر بل 2026 پر ساحلی برادریوں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت آگے بڑھائی ہے۔ ڈان کے مطابق اجلاس میں قانون سازوں، سرکاری حکام، ماہی گیروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے مجوزہ قانون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا، جس کا مقصد فشریز اور ایکواکلچر کے شعبے کے لیے جدید قانونی و انتظامی فریم ورک قائم کرنا ہے۔

اجلاس کی صدارت قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کی۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی میر ظہور احمد بلیدی سمیت کمیٹی کے دیگر ارکان بھی شریک ہوئے۔ شرکا کو بتایا گیا کہ مسودہ قانون کی تیاری کے لیے گزشتہ دو سے ڈھائی برس کے دوران ماہرین، ماہی گیروں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مختلف سطحوں پر مشاورت کی گئی ہے۔

مقامی ماہی گیروں نے غیر قانونی ٹرالنگ، وائر نیٹس اور دوسرے ممنوعہ آلات کو سمندری ماحول اور مچھلی کے ذخائر کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں مچھلیوں کے افزائش نسل کے ادوار کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر فش سیزن کلوزر پالیسی تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ سمندری وسائل کا استعمال طویل مدت تک پائیدار رکھا جا سکے۔

مجوزہ قانون میں ماہی گیروں کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ سمندری حیات اور ایکواکلچر کی ترقی کے لیے انتظامی قواعد وضع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گوادر میں کمیٹی کا اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم قرار دیا گیا کہ بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فشریز کا سرکاری اجلاس پہلی مرتبہ کوئٹہ سے باہر منعقد ہوا، جس سے ساحلی آبادی کو براہ راست قانون سازی کے مشاورتی عمل میں شامل کرنے کا موقع ملا۔

یہ مرحلہ ابھی قانون کی حتمی منظوری نہیں بلکہ مشاورتی اور مسودہ سازی کے عمل کا حصہ ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کے بعد بل میں تبدیلیاں ممکن ہیں اور حتمی قانونی شکل صوبائی اسمبلی کے مقررہ قانون سازی کے مراحل سے گزرنے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ ماہی گیروں کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ منظور ہونے والی اصلاحات میں غیر قانونی شکار کی روک تھام، مؤثر نگرانی اور وسائل کے پائیدار استعمال کے لیے قابل عمل نفاذی نظام کس حد تک شامل ہوتا ہے۔