اسلام آباد میں پاکستان ESG پالیسی رپورٹ 2026 کے اجرا کے موقع پر سینیٹر شیری رحمان نے ملک میں ماحولیاتی، سماجی اور گورننس، یعنی ESG، معیارات کے لیے زیادہ مضبوط قانونی اور ضابطہ جاتی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ڈان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ESG کو صرف کارپوریٹ برانڈنگ یا محدود رپورٹنگ کی مشق نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے پاکستان کے ماحولیاتی، قانونی، سیاسی اور اقتصادی فریم ورک کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ بنیادی سوال اب یہ نہیں کہ پاکستان کو ESG کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ملک کس نوعیت کا نظام چاہتا ہے اور اس پر عمل درآمد کیسے یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، کاروباری اداروں اور تکنیکی ماہرین کے درمیان زیادہ قریبی رابطہ ضروری ہے تاکہ رپورٹنگ کے ساتھ حقیقی ماحولیاتی اور سماجی نتائج بھی ناپے جا سکیں۔
رپورٹ کے اجرا کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج کمپنیوں کی تعداد اور ان میں سے محدود تعداد کی تفصیلی ماحولیاتی معلومات کی فراہمی کے درمیان فرق بھی اجاگر کیا گیا۔ ڈان کے مطابق تقریباً 537 کمپنیاں اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہیں، لیکن کاربن فٹ پرنٹ، وسائل کے استعمال، سرکلیرٹی اور دوسرے ماحولیاتی اثرات سے متعلق تفصیلی اور قابل تصدیق معلومات دینے والی کمپنیوں کی تعداد محدود ہے۔
ESG معیارات کی اہمیت پاکستان کے لیے صرف اندرونی ماحولیاتی پالیسی تک محدود نہیں۔ بین الاقوامی منڈیوں، سرمایہ کاروں اور سپلائی چینز میں ماحولیاتی اور سماجی تقاضے بڑھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستانی کمپنیوں کی برآمدی رسائی اور سرمایہ حاصل کرنے کی صلاحیت بھی بہتر ڈیٹا اور قابل اعتماد تعمیل سے متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم کسی نئے لازمی نظام کے نفاذ کے لیے واضح قانون، مرحلہ وار ضوابط اور کاروباری اداروں کی عملی استعداد کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
شیری رحمان کی تجاویز پالیسی مؤقف ہیں؛ رپورٹ کے اجرا سے بذات خود کوئی نیا لازمی قانون نافذ نہیں ہوا۔ اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ متعلقہ ریگولیٹرز اور قانون ساز ان سفارشات کو کس حد تک قابل نفاذ قواعد، مراعات اور نگرانی کے نظام میں تبدیل کرتے ہیں۔ مؤثر فریم ورک کی کامیابی کا معیار محض مزید رپورٹیں نہیں بلکہ قابل پیمائش ماحولیاتی اور سماجی بہتری ہوگی۔

