کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کے مسائل سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کے دوران متعلقہ حکام کو مختلف منصوبوں اور انتظامی اقدامات پر جامع رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقامی بسوں، رکشوں، الیکٹرک گاڑیوں اور مجوزہ بس ٹرمینل سمیت اہم معاملات کی تازہ صورتحال طلب کی۔
ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کوئٹہ ڈویژن کے سیکریٹری جنرل نے عدالت میں پیش رفت رپورٹ جمع کرائی اور بتایا کہ کوئٹہ کے لیے 27 ای گاڑیاں جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے 10 ڈیزل بسیں فراہم کی گئی ہیں۔ سماعت میں یہ بھی بتایا گیا کہ سریاب روڈ پر پرانے چونگی گودام کی جگہ مقامی بس ٹرمینل کے لیے مختص زمین ابھی تک کمشنر یا آر ٹی اے کے متعلقہ حکام کو منتقل نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے منصوبے پر عملی پیش رفت متاثر ہے۔
بلوچستان ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے ڈائریکٹر انتظامیہ شکیل احمد نے عدالت کو بتایا کہ کوئٹہ میں موٹر رکشوں کے متبادل کے طور پر ای گاڑیاں فراہم کرنے کا منصوبہ ابتدا میں رواں مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام میں 1.2353 ارب روپے کی لاگت کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔ بعد میں عدالتی مشاہدات کے تناظر میں اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے سپرد کیا گیا اور لاگت 595.72 ملین روپے تک نظرثانی کی گئی۔ نظرثانی شدہ تجویز منصوبہ بندی و ترقی کے محکمے کے زیر غور ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر ٹرانسپورٹ سیکریٹری کے دستخط سے رپورٹس پیش کی جائیں۔ ان میں آر ٹی اے کے لیے بس ٹرمینل کی زمین کی منتقلی، رکشوں کے متبادل ای گاڑیوں کے منصوبے کی موجودہ حیثیت، وکلا کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ سہولت کی منظوری اور اس پر عملی پیش رفت شامل ہونی چاہیے۔
یہ عدالتی کارروائی فی الحال معلومات، عمل درآمد اور انتظامی پیش رفت کی نگرانی سے متعلق ہے۔ عدالت نے منصوبوں کی تکمیل کا کوئی حتمی نتیجہ قرار نہیں دیا بلکہ حکام سے ریکارڈ اور موجودہ صورتحال واضح کرنے کو کہا ہے۔ آئندہ سماعت میں جمع ہونے والی رپورٹس سے یہ معلوم ہوگا کہ زمین کی منتقلی اور ٹرانسپورٹ اسکیموں میں زیر التوا مراحل پر کتنی پیش رفت ہوئی ہے۔




