راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے خاران اور واشک اضلاع میں دو الگ انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 11 دہشت گرد مارے گئے اور 2.9 ٹن دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔ فوجی بیان کے مطابق کارروائیاں 6 اور 7 ستمبر 2026 کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 6 ستمبر کو خاران میں مسلح افراد نے سڑک پر رکاوٹ قائم کرکے مقامی ٹریفک میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز نے انہیں روکا اور فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ افراد مارے گئے۔ فوج نے ان افراد کو بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والے گروہ سے وابستہ قرار دیا۔ یہ نسبت پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے؛ دستیاب ذرائع میں اس دعوے کی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
فوجی بیان میں کہا گیا کہ اگلے روز واشک ضلع میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر منصوبہ بند انٹیلی جنس آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مزید تین دہشت گرد مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق وہاں سے تقریباً 2.9 ٹن دھماکا خیز مواد بھی ملا، جسے دیسی ساختہ بم تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
بیان کے مطابق دونوں علاقوں میں مزید ممکنہ مسلح عناصر کی تلاش کے لیے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن کارروائیاں جاری ہیں۔ فوج نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ عزمِ استحکام کے فریم ورک میں انسداد دہشت گردی مہم جاری رکھی جائے گی۔
خاران اور واشک بلوچستان کے ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں سکیورٹی فورسز حالیہ عرصے میں انٹیلی جنس بنیاد پر متعدد کارروائیاں کر چکی ہیں۔ موجودہ واقعے میں ہلاکتوں، برآمد شدہ مواد اور مبینہ بیرونی سرپرستی سے متعلق بنیادی معلومات آئی ایس پی آر کے بیان سے سامنے آئی ہیں۔ آزاد ذرائع سے کارروائی کے تمام آپریشنل پہلوؤں کی فوری توثیق ممکن نہیں ہوئی، اس لیے ان تفصیلات کو فوج کے سرکاری مؤقف کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔




