لندن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری سیاسی بحث پر کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اپنی رائے رکھنے کا حق رکھتے ہیں، لیکن ایسے آئینی اور وفاقی نوعیت کے معاملے کو کاروباری فورمز کے بجائے پارلیمنٹ میں زیرِ بحث لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی وفاقی وزیر یا حکومتی نمائندے کے ساتھ اس موضوع پر پارلیمانی بحث کے لیے تیار ہیں۔
لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے تسلیم کیا کہ ان اور محسن نقوی کے مؤقف میں فرق ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی شخصیات کو اپنی رائے پیش کرنے کا حق ہے، تاہم نئے صوبوں کی تشکیل محض سیاسی بیان یا عوامی فورم کی تجویز سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے آئینی طریقہ کار اور سیاسی اتفاق رائے درکار ہوگا۔
حالیہ دنوں میں اس بحث کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھا ہے کہ کیا نئے صوبوں کے معاملے پر عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کرایا جا سکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 48(6) کے تحت قومی اہمیت کے کسی معاملے کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی منظوری کے بعد ریفرنڈم میں پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن ریفرنڈم بذاتِ خود کسی صوبے کی حدود تبدیل نہیں کرتا۔ صوبائی سرحدوں میں تبدیلی کے لیے آئین میں مقررہ الگ طریقہ کار پر عمل ضروری ہوگا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی اس معاملے میں جلد بازی کے خلاف خبردار کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سندھ یا کسی دوسرے صوبے کو وہاں کے عوام اور نمائندوں کی رضامندی کے بغیر تقسیم کرنا وفاق کو کمزور کر سکتا ہے۔ دفاعی وزیر خواجہ آصف نے بھی حتمی فیصلے کے لیے اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ بعض حکومتی شخصیات اسلام آباد سے انتظامی تنظیم نو شروع کرنے کی تجاویز دے چکی ہیں۔
نئے صوبوں کی بحث پاکستان میں انتظامی کارکردگی، وسائل کی تقسیم، شناخت اور وفاقی توازن جیسے حساس معاملات سے جڑی ہوئی ہے۔ بلاول بھٹو کا تازہ مؤقف بنیادی طور پر اس عمل کو پارلیمانی اور آئینی دائرے میں رکھنے پر مرکوز ہے۔ ابھی کسی نئے صوبے کے قیام کا باقاعدہ آئینی بل یا متفقہ سرکاری منصوبہ سامنے نہیں آیا، اس لیے موجودہ مرحلہ سیاسی مشاورت اور مختلف جماعتوں کے مؤقف کی تشکیل کا ہے۔




