بلوچستان کے ساران تنگی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن شعبان-II کے نام سے کارروائی کی، جس میں 6 مبینہ عسکریت پسندوں کی ہلاکت اور 9 مشتبہ افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ جیو نیوز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کارروائی مخصوص انٹیلی جنس معلومات ملنے کے بعد کی گئی۔

سکیورٹی ذرائع نے ہلاک افراد کو ایسے عسکریت پسند قرار دیا جن کے لیے ریاستی بیانات میں ’فتنہ الہندوستان‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یہ سرکاری اصطلاح ہے اور اس سے متعلق کسی مخصوص تنظیمی وابستگی یا بیرونی سرپرستی کے دعوے کی آزادانہ تصدیق جیو نیوز کی رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ہلاک افراد کے قبضے سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ساران تنگی میں 9 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ان افراد کے خلاف کسی مقدمے، فرد جرم یا عدالتی کارروائی کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، اس لیے زیر حراست افراد کو کسی جرم کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک متعلقہ قانونی عمل مکمل نہ ہو۔ سکیورٹی ذرائع نے کارروائی کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا گیا آپریشن قرار دیا، تاہم آپریشن کے دورانیے، فورسز کی تعداد اور ہلاک افراد کی شناخت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

یہ کارروائی ایک روز بعد سامنے آئی جب خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کے 6 اہلکار، جن میں کیپٹن ابوذر فاروق اور لیفٹیننٹ شیراز بابر شامل تھے، جان سے گئے تھے۔ جیو نیوز کے مطابق اس واقعے میں 8 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی گئی تھی۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا حالیہ برسوں میں شدت پسند تشدد سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں رہے ہیں۔

جیو نیوز نے سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی دوسری سہ ماہی 2026 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے ملک بھر میں تشدد سے منسلک ہلاکتوں کا تقریباً 96 فیصد حصہ ریکارڈ کیا۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 475 جبکہ بلوچستان میں 265 ہلاکتیں درج کی گئیں۔ اسی عرصے میں خیبر پختونخوا میں 151 اور بلوچستان میں 94 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے۔

ساران تنگی کی کارروائی کے بارے میں دستیاب معلومات اس وقت بنیادی طور پر سکیورٹی ذرائع کے بیانات پر مبنی ہیں۔ ہلاک افراد کی شناخت، مبینہ تنظیمی تعلق، گرفتار افراد کے خلاف شواہد اور کسی ممکنہ عدالتی کارروائی کے بارے میں مزید سرکاری یا عدالتی تفصیلات سامنے آنے پر واقعے کی مکمل تصویر واضح ہوگی۔