کوئٹہ: بلوچستان کے 32 اضلاع میں سات روزہ انسداد پولیو مہم شروع کر دی گئی ہے، جس میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 23 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق مہم کے لیے تمام انتظامات مکمل کیے گئے ہیں اور ہزاروں ٹیمیں مختلف علاقوں میں بچوں تک رسائی کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔
بلوچستان کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر انعام الحق کے مطابق مجموعی طور پر 9,193 ٹیمیں مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔ ان میں 621 فکسڈ سائٹ ٹیمیں اور 392 ٹرانزٹ پوائنٹ ٹیمیں شامل ہیں، جبکہ باقی ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین فراہم کریں گی۔ مہم مسلسل سات روز تک جاری رہے گی اور صوبے کے نامزد 32 اضلاع کو کور کرے گی۔
حکام کے مطابق یہ ویکسینیشن مہم ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب حالیہ ماحولیاتی نگرانی میں بلوچستان سے پولیو وائرس کے دو مثبت نمونے سامنے آئے۔ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ وائرس کسی علاقے میں گردش کر رہا ہے، اسی لیے صحت حکام وسیع پیمانے پر ویکسینیشن کو وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔ مثبت ماحولیاتی نمونہ بذاتِ خود کسی بچے میں پولیو کیس کی تصدیق نہیں ہوتا، بلکہ سیوریج یا دیگر نگرانی کے نمونوں میں وائرس کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں بار بار ویکسینیشن مہمات اس لیے کی جاتی ہیں تاکہ ایسے بچوں تک بھی رسائی ہو سکے جو کسی سابقہ مرحلے میں قطرے نہ پی سکے ہوں یا جنہیں اضافی حفاظتی خوراک درکار ہو۔ صوبے کا وسیع جغرافیہ، دور دراز آبادیاں اور نقل و حرکت والے راستے مہم کی منصوبہ بندی میں اہم عوامل ہیں، اسی لیے مستقل مراکز کے ساتھ ٹرانزٹ پوائنٹس پر بھی ٹیمیں رکھی گئی ہیں۔
صحت حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو مہم کے دوران پولیو ویکسین ضرور دلوائیں۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے قومی اور صوبائی سطح پر نگرانی، ماحولیاتی سیمپلنگ اور گھر گھر ویکسینیشن کا نظام استعمال کیا جاتا ہے۔ بلوچستان کی موجودہ مہم کا فوری مقصد 23 لاکھ بچوں تک پہنچنا اور حالیہ ماحولیاتی شواہد کے تناظر میں وائرس کی ممکنہ گردش کو محدود کرنا ہے۔
