کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق یہ پابندیاں 23 ستمبر 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور ان کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا، عوامی تحفظ کو یقینی بنانا اور ایسی سرگرمیوں کو روکنا ہے جن سے موجودہ سکیورٹی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔
حکومتی حکم کے تحت عوامی مقامات پر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع، دھرنے، جلوس، ریلی، احتجاج اور اسی نوعیت کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار کی نمائش، لے جانے یا استعمال پر بھی پابندی ہوگی، سوائے ان صورتوں کے جہاں قانون کے تحت خاص اجازت موجود ہو۔
محکمہ داخلہ کے مشیر بابر یوسفزئی کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات دی گئی ہیں کہ صوبے بھر میں حکم پر سختی سے عمل کرایا جائے۔ دنیا نیوز کے مطابق عوامی مقامات پر چہرہ اس طرح ڈھانپنے پر بھی پابندی شامل ہے جس سے شناخت میں رکاوٹ پیدا ہو، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔
صوبائی حکومت نے پابندیوں کی وجہ امن عامہ، قانون و نظم اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو قرار دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق محکمہ داخلہ کو ایسی ممکنہ سرگرمیوں اور اجتماعات کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی تھیں جو عوامی سکون یا سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ حکومت نے ان خدشات کی تفصیلی نوعیت یا کسی مخصوص منصوبہ بند واقعے کی مکمل معلومات عام نہیں کیں۔
یہ حکم ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بلوچستان میں حالیہ دنوں کے دوران مختلف علاقوں میں سکیورٹی آپریشنز اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم دفعہ 144 کے حکم کو کسی ایک مخصوص واقعے سے جوڑنے کے بجائے صوبائی حکومت نے اسے وسیع تر امن و امان اور عوامی تحفظ کے تناظر میں بیان کیا ہے۔
دفعہ 144 ایک انتظامی اقدام ہے جس کے تحت محدود مدت کے لیے مخصوص سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔ موجودہ حکم کی مدت 30 روز بتائی گئی ہے۔ اس عرصے میں پابندیوں کی نوعیت یا مدت میں کسی تبدیلی کی صورت میں مزید سرکاری نوٹیفکیشن درکار ہوگا۔ شہریوں اور سیاسی یا سماجی تنظیموں کے لیے عملی اثرات کا انحصار متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حکم کے نفاذ اور قانونی استثنا کی تشریح پر ہوگا۔

