کوئٹہ: وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز سے متعلق مہارتیں اور مواقع فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں اور اراکین سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کی تربیت کو روزگار اور کاروباری مواقع سے جوڑنے پر زور دیا۔

رانا مشہود کے مطابق حکومت کوئٹہ چیمبر کے ساتھ مل کر چھوٹے کاروباروں اور اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے کے لیے تعاون کرے گی، تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ملازمت کے ساتھ کاروبار شروع کرنے کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ڈیجیٹل مہارتیں نوجوانوں کو مقامی منڈی کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی بہتر مواقع تک رسائی دے سکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم یوتھ ہب کے ساتھ تقریباً نو لاکھ نوجوان رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ 2,400 کمپنیوں کی رجسٹریشن بھی ہو چکی ہے۔ یہ اعداد پروگرام کے پلیٹ فارم سے متعلق سرکاری بیان کا حصہ ہیں۔ دستیاب معلومات میں بلوچستان کے لیے اے آئی تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کی الگ حتمی تعداد، کورسز کی مکمل فہرست یا تمام پروگراموں کے آغاز کی مخصوص تاریخیں نہیں دی گئیں۔

چیئرمین یوتھ پروگرام نے چیمبر کے ساتھ اشتراک کو اس لیے اہم قرار دیا کہ تربیت کو نجی شعبے کی حقیقی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ کاروباری اداروں کی شمولیت سے ایسے ہنر کی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے جن کی مقامی صنعت، خدمات، آئی ٹی اور نئے کاروباری شعبوں میں طلب موجود ہے۔

بلوچستان میں نوجوان آبادی کے لیے روزگار اور مہارتوں کی کمی ایک دیرینہ ترقیاتی چیلنج ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل خدمات اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباروں کی تربیت اس خلا کو کم کرنے کی ایک ممکنہ سمت ہے، تاہم اس کے نتائج کا انحصار تربیت کے معیار، انٹرنیٹ و تکنیکی سہولتوں، نجی شعبے کی شمولیت اور تربیت کے بعد عملی روزگار یا سرمایہ تک رسائی پر ہوگا۔

رانا مشہود کے بیان میں چھوٹے کاروبار اور اسٹارٹ اپس کو سہولت دینے کی بات بھی کی گئی، لیکن کسی نئے مالی پیکیج یا مخصوص گرانٹ کی رقم کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو حکومت اور کوئٹہ کی کاروباری برادری کے درمیان مہارتوں اور کاروباری مواقع بڑھانے کے لیے تعاون کی پالیسی سمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔