اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اپنی ایک ماہ کی کارکردگی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک گیر کارروائیوں کے دوران سائبر جرائم میں مبینہ طور پر ملوث 1,129 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 105.3 ملین روپے برآمد کرکے متاثرہ افراد کو واپس کیے گئے۔

ایجنسی کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد زیر جائزہ ایک ماہ کے دوران شہریوں کی 5,176 شکایات موصول ہوئیں۔ ان شکایات کی بنیاد پر 4,491 انکوائریاں درج کی گئیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد 272 مقدمات قائم کیے گئے۔ رپورٹ میں گرفتاریوں کو ملک گیر سائبر کرائم کریک ڈاؤن کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق کارروائیوں میں برآمد ہونے والی 105.3 ملین روپے کی رقم متاثرین کو واپس کی گئی۔ یہ اعدادوشمار ایجنسی کی کارکردگی رپورٹ اور ترجمان سے منسوب ہیں؛ گرفتار افراد کے خلاف الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں، اس لیے گرفتاری یا مقدمہ درج ہونا بذات خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔

ڈی جی سید علی ناصر رضوی نے کہا کہ شہریوں کا ڈیجیٹل تحفظ ادارے کی ترجیحات میں شامل رہے گا اور سائبر جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل شعبہ قومی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، اس لیے افراد، اداروں اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا تحفظ صرف قانون نافذ کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سطح کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں آن لائن مالی فراڈ، شناخت کی چوری، سوشل میڈیا کے ذریعے ہراسانی اور دیگر ڈیجیٹل جرائم کی شکایات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بڑھتا ہوا چیلنج ہیں۔ این سی سی آئی اے کو سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے خصوصی ادارے کے طور پر ذمہ داریاں دی گئی ہیں اور تازہ رپورٹ میں شکایات سے لے کر انکوائری، مقدمات، گرفتاریوں اور رقوم کی واپسی تک مختلف مراحل کے اعدادوشمار پیش کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ تفصیل فراہم نہیں کی گئی کہ 1,129 گرفتاریوں میں کتنے افراد کے مقدمات عدالتوں میں پہنچ چکے ہیں یا کتنے کیسز میں حتمی عدالتی فیصلے آ چکے ہیں۔ اس لیے دستیاب اعدادوشمار کو تفتیشی اور انتظامی کارروائی کی پیش رفت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ تمام زیر حراست افراد کے خلاف حتمی عدالتی نتیجے کے طور پر۔