نارووال: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر کو خلائی مشن پر روانہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بات نارووال میں ورلڈ اسپیس ویک کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی اور بتایا کہ پاکستان کے انسانی خلائی پرواز پروگرام میں چین تعاون کر رہا ہے۔
احسن اقبال کے مطابق خلائی تحقیق اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی جدید معیشت، سائنسی تحقیق اور قومی سلامتی کے لیے تیزی سے اہم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تحقیق اور علم کی عالمی دوڑ میں اپنی جگہ بنانے کے لیے نوجوانوں میں سوال کرنے، سائنسی تجسس اور تحقیق کی صلاحیت کو فروغ دینا ہوگا۔
وزیر منصوبہ بندی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے 2035 تک چاند پر اترنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کے عملی خاکے، مشن کی نوعیت اور مالی تفصیلات کی مکمل وضاحت تقریب میں سامنے نہیں آئی، تاہم حکومت اسے طویل مدتی خلائی پروگرام کے تناظر میں پیش کر رہی ہے۔
پاکستان اور چین کے خلائی تعاون کے تحت پاکستانی پائلٹس اور سائنس دانوں میں سے امیدواروں کا انتخاب کیا گیا تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق زیشان علی اور خرم داؤد نے بیجنگ میں چائنا ایسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کی ہے۔ تربیت میں چینی زبان، خلائی جہاز کے نظام، مائیکرو گریویٹی اور لانچ کے دوران جسم پر پڑنے والی قوتوں سے متعلق تیاری شامل رہی۔ حتمی طور پر منتخب ہونے والا پاکستانی خلا باز چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے مشن میں بطور پے لوڈ اسپیشلسٹ حصہ لے گا اور پاکستانی سائنسی تجربات انجام دے گا۔
احسن اقبال نے نارووال یونیورسٹی میں جدید ٹیکنالوجی اور ابھرتے ہوئے علوم کے مرکز کی تعمیر شروع کرنے اور پاکستان کا پہلا اسپیس میوزیم قائم کرنے کے لیے وسائل مہیا کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا استعمال مواصلات، موسم، زراعت، قدرتی آفات کی نگرانی اور سکیورٹی سمیت کئی شعبوں میں بڑھ رہا ہے۔
پاکستان اور چین پہلے ہی سیٹلائٹ اور قمری منصوبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔ ایک پاکستانی ساختہ قمری روور کو چین کے چانگ ای 8 مشن کے ساتھ تقریباً 2028 میں بھیجنے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔ انسانی خلائی پرواز کا مجوزہ مشن اس تعاون کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرے گا۔
وزیر کے اعلان کے مطابق 25 نومبر کی تاریخ طے کی گئی ہے، تاہم مشن کی حتمی روانگی خلائی پروگرام کی تکنیکی اور عملی تیاریوں سے مشروط رہ سکتی ہے۔ متعلقہ چینی ادارے کی جانب سے اس مخصوص لانچ کی مکمل تفصیلات اس رپورٹ کے بنیادی ماخذ میں الگ سے جاری نہیں کی گئیں۔

