کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس پر مبنی ایک نیا نظام تیار کیا ہے جس کا مقصد سرکاری خریداری کے عمل میں بولی دہندگان کے درمیان ممکنہ ملی بھگت اور کارٹلائزیشن کے آثار کی نشاندہی کرنا ہے۔ ادارے کے مطابق Bid-Rigging Detection System، جسے مختصراً BRDS کہا گیا ہے، بڑی مقدار میں پروکیورمنٹ ڈیٹا کو جانچ کر ایسے مشکوک پیٹرنز کو فلیگ کرے گا جن پر مزید تحقیق کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
یہ نظام کسی کمپنی یا بولی دہندہ کو خودکار طور پر قصوروار قرار نہیں دیتا۔ اس کا بنیادی کردار خطرے کے اشارے پیدا کرنا ہے تاکہ کمپیٹیشن کمیشن کے تفتیشی افسران متعلقہ ٹینڈرز اور بولیوں کا تفصیلی جائزہ لے سکیں۔ اس فرق کی اہمیت اس لیے ہے کہ ڈیٹا میں مماثلت یا غیر معمولی پیٹرن بذات خود قانونی خلاف ورزی کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا؛ کسی بھی کارروائی کے لیے متعلقہ قانون اور شواہد کے مطابق باقاعدہ تحقیق ضروری ہوگی۔
ڈان کے مطابق پاکستان میں سالانہ سرکاری خریداری کا حجم تقریباً 60 ارب ڈالر کے مساوی بتایا گیا ہے، جس کے باعث ٹینڈرز میں مسابقت اور شفافیت کا مالی اثر بہت وسیع ہوسکتا ہے۔ نئے نظام کا مقصد دستی نگرانی کے مقابلے میں بڑے ڈیٹا سیٹس کو تیزی سے جانچنا اور ان بولیوں کو ترجیحی بنیاد پر سامنے لانا ہے جہاں قیمتوں، بولی کے رویوں یا شرکا کے درمیان تعلقات میں غیر معمولی مماثلت نظر آئے۔
کمپیٹیشن کمیشن کی یہ پیش رفت سرکاری خریداری میں ڈیجیٹل نگرانی کے بڑھتے ہوئے استعمال کا حصہ ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق BRDS کو اسٹینفورڈ کی ایک عالمی اینٹی ٹرسٹ رپورٹ میں بھی نمایاں کیا گیا، جہاں مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیٹا تجزیے کے ذریعے کارٹل کے ممکنہ رویوں کی شناخت کے اقدام کا ذکر کیا گیا۔
نظام کی عملی افادیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ اسے دستیاب پروکیورمنٹ ڈیٹا کی مکملیت اور معیار کیسا ہے، خطرے کے اشاروں کی انسانی جانچ کس طرح کی جاتی ہے اور تحقیقات میں قانونی تقاضے کس حد تک پورے کیے جاتے ہیں۔ فی الحال اعلان کا مرکزی نکتہ ایک تفتیشی اور اسکریننگ ٹول کی تیاری ہے، نہ کہ اس کے ذریعے کسی مخصوص کمپنی یا ٹینڈر میں خلاف ورزی ثابت ہونا۔

