اسلام آباد: کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے سرکاری خریداری کے ڈیٹا میں بولی کی ممکنہ دھاندلی اور کارٹلائزیشن کے مشتبہ رجحانات کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی Bid-Rigging Detection System (BRDS) تیار کیا ہے۔ ڈان کی 18 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یہ نظام بڑی مقدار میں پروکیورمنٹ ڈیٹا کا تجزیہ کرکے ایسے پیٹرن سامنے لانے کے لیے بنایا گیا ہے جنہیں روایتی، شکایت پر مبنی یا دستی جانچ کے ذریعے بروقت شناخت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سرکاری خریداری پر سالانہ تقریباً 60 ارب ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے اور یہ سرگرمی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 15 سے 20 فیصد کے برابر بتائی گئی ہے۔ مجوزہ نظام پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی، صوبائی پروکیورمنٹ اداروں اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سمیت مختلف ڈیٹا ذرائع کو باہم جوڑنے کی سمت میں کام کرے گا۔ اس انضمام کا مقصد بولی دینے والی کمپنیوں، ان کی ملکیت اور مختلف ٹینڈرز میں ان کے طرزِ عمل کے درمیان ایسے روابط تلاش کرنا ہے جو مزید تفتیش کے متقاضی ہوں۔

سی سی پی چیئرمین فرید احمد تارڑ کے مطابق کھربوں روپے کی خریداری کی نگرانی صرف شکایات اور الگ الگ ٹینڈرز کے دستی معائنے سے مؤثر طور پر نہیں کی جا سکتی۔ BRDS غیر معمولی قیمتوں، مربوط قیمتوں کے انحراف، کور بڈنگ اور بڈ روٹیشن جیسے ممکنہ اشاروں کو نمایاں کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ تاہم کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کسی کمپیوٹر الرٹ کو بذاتِ خود بدعنوانی یا مسابقتی قانون کی خلاف ورزی کا ثبوت نہیں سمجھا جائے گا۔ ہر الرٹ کے بعد آزادانہ تصدیق، شواہد اکٹھے کرنا اور Competition Act 2010 کے تحت قانونی جانچ ضروری ہوگی۔

یہ فرق اہم ہے کیونکہ الگورتھم صرف خطرے کی نشان دہی کرتا ہے، قصور کا تعین نہیں۔ سی سی پی کے مطابق نظام کا مقصد تحقیقاتی وسائل کو زیادہ خطرے والے معاملات کی طرف مرکوز کرنا اور نگرانی کو زیادہ منظم اور ڈیٹا پر مبنی بنانا ہے۔ عمل درآمد کے لیے متعلقہ پروکیورمنٹ اداروں کے ساتھ مؤثر ڈیٹا انضمام اور ادارہ جاتی تعاون درکار ہوگا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کا ذکر Stanford Computational Antitrust کی بین الاقوامی رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔