چین نے سولر آلات کی تیاری میں استعمال ہونے والی 12 جدید ٹیکنالوجیز پر برآمدی کنٹرول عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق چینی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ فوٹو وولٹیک ٹیکنالوجیز کا استعمال ایرو اسپیس اور قومی دفاع جیسے حساس شعبوں میں بڑھ رہا ہے، اس لیے ان کی بیرون ملک منتقلی پر زیادہ نگرانی ضروری ہے۔ یہ تجویز مصنوعی ذہانت اور بایوٹیکنالوجی سمیت اہم ٹیکنالوجیز کی برآمد سے متعلق وسیع تر ضابطہ جاتی نظرثانی کا حصہ ہے۔

مجوزہ فہرست میں باریک ویفرز، پیرووسکائٹ اور ٹینڈم سولر سیلز بنانے کی بعض ٹیکنالوجیز کے ساتھ بڑے پیمانے پر فلوئڈائزڈ بیڈ پولی سلیکون پیداوار کی ٹیکنالوجی شامل ہے۔ پیرووسکائٹ ایک ابھرتی ہوئی سولر ٹیکنالوجی ہے جس میں بجلی میں تبدیلی کی کارکردگی بڑھانے کی صلاحیت دیکھی جا رہی ہے، جبکہ ٹینڈم سیلز پیرووسکائٹ اور سلیکون کی تہوں کو ملا کر سورج کی روشنی کے زیادہ حصے کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق چین کچھ ٹیکنالوجیز کی برآمد پر مکمل پابندی کی تجویز دے رہا ہے، جبکہ TOPCon، HJT اور XBC جیسی جدید سولر سیل مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے محدود اور لائسنس کے تابع کیا جا سکتا ہے۔ فلوئڈائزڈ بیڈ طریقہ پولی سلیکون کی پیداوار کے روایتی سیمنز عمل کے مقابلے میں کم لاگت اور زیادہ توانائی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

وزارت تجارت کا مؤقف ہے کہ برآمدی کنٹرول کا مقصد ٹیکنالوجی کے بے قابو پھیلاؤ یا غلط استعمال کے خطرات کم کرنا ہے، جبکہ معمول کے بین الاقوامی سائنسی اور تکنیکی تبادلوں کو جاری رکھا جائے گا۔ حتمی فہرست جاری ہونے تک برآمد کنندگان کو بعض بیرون ملک ٹیکنالوجی منتقلیوں کا اندراج کرانا ہوگا۔ مجوزہ قواعد پر عوامی مشاورت 15 نومبر تک جاری رہے گی۔

چین عالمی سولر مینوفیکچرنگ سپلائی چین میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے نئی پابندیاں دیگر ممالک میں مقامی سولر پیداوار بڑھانے کی کوششوں پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ رائٹرز نے اپریل میں رپورٹ کیا تھا کہ چینی حکام جدید سولر پینل ٹیکنالوجیز پر ممکنہ قدغنوں کے بارے میں مینوفیکچررز سے ابتدائی بات چیت کر چکے ہیں۔ تاہم موجودہ اقدامات ابھی تجویز کے مرحلے میں ہیں اور ان کا حتمی دائرہ مشاورتی عمل اور سرکاری منظوری کے بعد واضح ہوگا۔