اسلام آباد/نارووال: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر 2026 کو چین کے ایک خلائی مرکز سے خلائی مشن پر روانہ ہوگا۔ یہ اعلان انہوں نے نارووال میں ورلڈ اسپیس ویک کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا انعقاد پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے تعاون سے کیا گیا تھا۔
سرکاری پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ پاکستان 2035 تک چاند پر اترنے کا ہدف رکھتا ہے اور چین کے ساتھ خلائی تعاون کو ملک کی سائنسی و تکنیکی صلاحیت بڑھانے کے لیے اہم قرار دیا۔ وزیر منصوبہ بندی نے زراعت، مواصلات، موسمیاتی نگرانی، تعلیم اور قومی سلامتی میں خلائی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار پر زور دیا اور کہا کہ سائنسی تحقیق اور خلائی جستجو تکنیکی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق رواں سال اپریل میں چین نے پاکستانی پائلٹس ذیشان علی اور خرم داؤد کو اپنے انسانی خلائی پروگرام کے لیے امیدواروں کے طور پر منتخب کیا تھا اور دونوں بیجنگ میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم 18 اکتوبر کے اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان دونوں میں سے کون 25 نومبر کے مشن کا حصہ بنے گا۔ اس لیے مشن کی تاریخ سرکاری طور پر بیان ہونے کے باوجود منتخب خلا باز کی شناخت کے بارے میں حتمی اعلان ابھی سامنے آنا باقی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی رکن مشن میں ’پے لوڈ اسپیشلسٹ‘ کے طور پر سائنسی تجربات انجام دے گا۔ اس تعاون میں چینی ساختہ خلائی جہاز، چینی لانچ سائٹ اور چین میں فراہم کی جانے والی تربیت شامل ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے انسانی خلائی پرواز کے پروگرام کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے، کیونکہ اس سے پہلے پاکستان نے سیٹلائٹ اور دیگر خلائی منصوبوں میں سرگرمیاں انجام دی ہیں لیکن کسی پاکستانی شہری کی خلائی پرواز نہیں ہوئی۔
احسن اقبال نے تقریب میں نوجوانوں کو خلائی سائنس اور جدید تحقیق کی جانب راغب کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے یونیورسٹی آف نارووال کی اسلام آباد سائنس فیسٹیول میں پہلی پوزیشن کا ذکر کیا اور یونیورسٹی میں پاکستان کا پہلا اسپیس میوزیم قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی کیا۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد نئی نسل میں خلائی سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی بڑھانا ہے۔
25 نومبر کے مشن کی عملی تفصیلات، پرواز کے دورانیے اور منتخب پاکستانی خلا باز کے نام سے متعلق مزید معلومات متعلقہ پاکستانی اور چینی اداروں کی جانب سے جاری ہونے کی توقع ہے۔ موجودہ اعلان میں ان پہلوؤں کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی گئی، اس لیے انہیں حتمی طور پر طے شدہ معلومات کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

