جاپان کے سائنس دان مریخ کے چاندوں کی تحقیق کے لیے ایک تاریخی مشن کی تیاری کر رہے ہیں جس کا مقصد فوبوس کی سطح سے نمونے جمع کرکے زمین پر واپس لانا ہے۔ جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی، جاکسا، کے Martian Moons eXploration یا MMX مشن کو مریخی نظام تک پہلی مکمل راؤنڈ ٹرپ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
جاکسا کے مطابق MMX خلائی جہاز کو H3 راکٹ کے ذریعے تانیگاشیما اسپیس سینٹر سے منگل کو روانہ کیا جانا ہے۔ منصوبے کے تحت خلائی جہاز تقریباً ایک سال بعد مریخ کے قریب پہنچے گا اور فوبوس کے گرد زیادہ سے زیادہ تین سال تک مدار میں رہنے کے بعد اس کی سطح پر اترنے کی کوشش کرے گا۔ وہاں سے کم از کم 10 گرام مٹی اور چٹانی مواد اکٹھا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
لینڈنگ سے پہلے IDEFIX نامی روور فوبوس کی سطح کا جائزہ لے گا تاکہ محفوظ مقام کے انتخاب اور سائنسی مشاہدات میں مدد مل سکے۔ مشن مریخ کے دوسرے چاند ڈیموس کا بھی مشاہدہ کرے گا، تاہم وہاں اترنے کا منصوبہ نہیں۔ نمونے حاصل کرنے کے بعد خلائی جہاز زمین کی طرف واپسی کا سفر کرے گا۔
سائنس دان امید کر رہے ہیں کہ فوبوس کے نمونوں سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ مریخ کے دونوں چاند کیسے وجود میں آئے۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ کسی بڑے فلکی جسم کے مریخ سے ٹکرانے کے بعد یہ چاند بنے، جبکہ دوسرے نظریے کے مطابق یہ سیارچے تھے جنہیں مریخ کی کشش ثقل نے اپنے مدار میں قید کر لیا۔ اس سوال کا جواب نظام شمسی کی تشکیل اور چٹانی سیاروں تک پانی، نامیاتی مرکبات اور دیگر مادوں کی منتقلی کے بارے میں نئی معلومات دے سکتا ہے۔
MMX میں امریکی و یورپی خلائی اداروں، فرانس اور جرمنی کے تحقیقی اداروں، جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کا تعاون بھی شامل ہے۔ جاکسا کا کہنا ہے کہ فوبوس کو مستقبل کی انسان بردار مریخ تحقیق کے لیے ایک ممکنہ ’قدرتی خلائی اسٹیشن‘ کے طور پر سمجھنے میں بھی یہ مشن مدد دے سکتا ہے۔ مشن کی کامیابی جاپان کے سابقہ سیارچہ نمونہ واپسی تجربے کو مریخ کے کہیں زیادہ پیچیدہ کشش ثقل والے ماحول تک توسیع دے گی۔

