اسلام آباد میں کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے سرکاری خریداری کے شعبے میں ممکنہ بولی دھاندلی اور کارٹلائزیشن کے پوشیدہ رجحانات تلاش کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا نظام تیار کیا ہے۔ ادارے کے مطابق Bid-Rigging Detection System، جسے BRDS کہا گیا ہے، بڑے پیمانے پر پروکیورمنٹ ڈیٹا کو جانچ کر ایسے مشتبہ بولی پیٹرنز کی نشاندہی کرے گا جن پر مزید تفتیش کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

کمیشن کے بیان کے مطابق پاکستان کی سرکاری خریداری کی مارکیٹ میں سالانہ تقریباً 60 ارب ڈالر کے سامان، تعمیراتی کام اور خدمات کی خریداری ہوتی ہے، جبکہ پبلک پروکیورمنٹ کا حجم مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 15 سے 20 فیصد کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ اس حجم کے باعث مسابقتی عمل میں کسی منظم ملی بھگت یا بولی کے غیر فطری پیٹرن کی بروقت شناخت مالی نظم و ضبط اور منصفانہ مقابلے کے لیے اہم ہے۔

سی سی پی کا کہنا ہے کہ ماضی میں پروکیورمنٹ ڈیٹا مختلف نظاموں میں بکھرا ہونے اور کمپنیوں کی ملکیت سے متعلق ریکارڈ کے ساتھ خودکار روابط نہ ہونے کی وجہ سے پیچیدہ طریقوں سے ہونے والی ممکنہ ملی بھگت کا منظم سراغ لگانا مشکل رہا۔ ان طریقوں میں باری باری بولی جیتنے کی حکمت عملی، محض رسمی یا کور بڈنگ، اور ایک دوسرے سے منسلک کمپنیوں کا مختلف ٹینڈرز میں حصہ لینا شامل ہو سکتا ہے۔

نیا نظام شکایت موصول ہونے کے بعد دستی جانچ پر زیادہ انحصار کرنے کے بجائے ڈیٹا کی بنیاد پر پیشگی نگرانی کی طرف منتقلی کی کوشش ہے۔ تاہم کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اے آئی نظام کی جانب سے پیدا ہونے والا کوئی الرٹ خود بخود جرم یا قانون شکنی کا حتمی ثبوت نہیں ہوگا۔ ہر الرٹ کو صرف تفتیشی سراغ سمجھا جائے گا اور کسی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے آزادانہ تصدیق، شواہد جمع کرنا اور کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت قانونی جائزہ ضروری ہوگا۔

یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ خودکار تجزیہ مشتبہ تعلق یا پیٹرن دکھا سکتا ہے لیکن قانونی ذمہ داری کا تعین الگ شواہد اور باقاعدہ عمل کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ سی سی پی کے مطابق ترقی پذیر معیشتوں میں ایسے نظام مؤثر بنانے کے لیے مشین ریڈایبل ڈیٹا، اداروں کے درمیان تعاون، محدود اور کنٹرولڈ ٹیسٹنگ اور قانونی طور پر قابل دفاع طریقہ کار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔