اسلام آباد: وزارت خارجہ نے قونصلر دستاویزات کی تصدیق کے لیے ڈیجیٹل اٹیسٹیشن نظام متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد شہریوں کو بار بار سرکاری دفاتر جانے، طویل قطاروں اور روایتی کاغذی کارروائی سے درپیش مشکلات کم کرنا ہے۔ وزارت کے مطابق نیا نظام 12 اکتوبر 2026 سے فعال ہے اور اسلام آباد میں مرکزی دفتر کے علاوہ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور گجرات کے رابطہ دفاتر میں بھی اس کے تحت خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
نئے طریقہ کار میں درخواست گزار اپنی دستاویزات وزارت خارجہ کے آن لائن پورٹل کے ذریعے اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ متعلقہ حکام کی جانچ اور تصدیق مکمل ہونے کے بعد مقررہ فیس آن لائن ادا کی جاسکے گی اور تصدیق کا الیکٹرانک سرٹیفکیٹ درخواست گزار کو ای میل کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ اس طرح متعدد معاملات میں شہری گھر سے درخواست مکمل کرسکیں گے اور تصدیق شدہ نتیجہ ڈیجیٹل شکل میں حاصل ہوگا۔
وزارت کے سرکلر کے مطابق یہ سہولت عمومی دستاویزی تصدیق کے ساتھ اپوسٹیل خدمات کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ تاہم ہر کیس مکمل طور پر ریموٹ نہیں ہوگا؛ ایسے معاملات جن میں اصل دستاویز، شناخت یا کسی دوسرے پہلو کی جسمانی جانچ ضروری سمجھی جائے، وہاں درخواست گزار کو ذاتی طور پر پیش ہونے کے لیے کہا جاسکتا ہے۔ اس لیے نظام کو دفاتر میں ہر قسم کی حاضری کے مکمل خاتمے کے بجائے زیادہ تر معمول کے تصدیقی عمل کی ڈیجیٹل منتقلی سمجھنا درست ہوگا۔
ڈیجیٹل اٹیسٹیشن بیرون ملک تعلیم، ملازمت، امیگریشن، قانونی کارروائی یا دیگر مقاصد کے لیے پاکستانی دستاویزات کی تصدیق کرانے والے شہریوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ماضی میں ایسے درخواست گزاروں کو دستاویزات جمع کرانے، فیس اور تصدیق شدہ کاغذات واپس لینے کے لیے متعدد مراحل سے گزرنا پڑتا تھا۔ آن لائن اپ لوڈ، ادائیگی اور ای میل سرٹیفکیٹ ان مراحل کو مختصر کرسکتے ہیں، بشرطیکہ پورٹل اور تصدیقی نظام مسلسل قابلِ رسائی اور محفوظ رہیں۔
وزارت خارجہ نے اپنے افسران کو بھی درخواست گزاروں کو الیکٹرانک طریقہ اختیار کرنے کی ترغیب دینے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس اقدام کا مقصد سہولت، شفافیت اور سروس ڈیلیوری بہتر بنانا ہے۔ عملی کامیابی کا انحصار دستاویزات کی بروقت جانچ، ڈیٹا سکیورٹی، آن لائن ادائیگی کے قابلِ اعتماد نظام اور ان درخواستوں کے واضح انتظام پر ہوگا جن میں جسمانی تصدیق درکار ہو۔

