واشنگٹن: مصنوعی ذہانت کی کمپنی انتھروپک نے تصدیق کی ہے کہ وہ امریکی قانون سازوں کے درمیان ایک مجوزہ وفاقی بل کا مسودہ گردش کر رہی ہے جس کا مقصد طاقتور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز سے پیدا ہونے والے بڑے حفاظتی خطرات کے لیے قانونی فریم ورک بنانا ہے۔ کمپنی کے مطابق تجویز کا ہدف ایسے فرنٹیئر ماڈلز ہیں جن کی تعیناتی غیر معمولی بڑے جانی یا مالی نقصان کا فوری خطرہ پیدا کرسکتی ہو۔

مسودے کے مطابق وفاقی حکومت کسی اے آئی ماڈل کی ریلیز یا استعمال کو اس صورت میں روکنے کی درخواست کرسکے گی جب اس سے 50 سے زیادہ افراد کی ہلاکت یا سنگین زخمی ہونے، یا ایک ارب ڈالر سے زیادہ نقصان کا فوری خطرہ ہو۔ تاہم اس اختیار کے استعمال کے لیے جج کی منظوری درکار ہوگی، یعنی انتظامیہ کو یکطرفہ طور پر ماڈل بند کرنے کا کھلا اختیار نہیں دیا گیا۔

انتھروپک کے ترجمان کے مطابق مجوزہ قانون فرنٹیئر اے آئی بنانے والی کمپنیوں سے طاقتور ترین ماڈلز کی حفاظتی جانچ، نتائج کے بارے میں عوامی شفافیت، آزادانہ جائزے اور مضبوط سکیورٹی پروگرام برقرار رکھنے کا تقاضا کرے گا۔ یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا میں اے آئی کے لیے جامع وفاقی قانون ابھی منظور نہیں ہوا اور پالیسی بڑی حد تک انتظامی احکامات، رضاکارانہ صنعتی وعدوں اور ریاستی قوانین کے امتزاج پر چل رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس سیاسی تقسیم اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی شدید لابنگ کے ماحول میں اب تک جامع وفاقی اے آئی قانون منظور نہیں کرسکی۔ حالیہ مہینوں میں خودمختار یا نیم خودمختار اے آئی ایجنٹس سے متعلق سکیورٹی واقعات نے اس بحث کو مزید نمایاں کیا ہے کہ جدید ماڈلز کے غلط استعمال، غیر متوقع رویے اور سائبر یا جسمانی نقصان کے خطرات کے لیے کون ذمہ دار ہوگا۔

مجوزہ قانون بعض ریاستی قوانین کو وفاقی فریم ورک سے بدلنے کی تجویز بھی رکھتا ہے، جس پر وفاق اور ریاستوں کے اختیارات کے حوالے سے بحث متوقع ہے۔ یہ ابھی قانون نہیں بنا؛ اسے کانگریس میں باضابطہ طور پر پیش، زیر بحث اور منظور ہونا ہوگا اور پھر آئینی قانون سازی کے مراحل مکمل کرنا ہوں گے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو صنعت کی جانب سے پالیسی تجویز سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ نافذ شدہ امریکی اے آئی ضابطہ۔