اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل صارفین کو کال کے معیار، کنکشن کی رفتار اور موبائل انٹرنیٹ کے تجربے میں بہتری کے لیے اپنے فون کی نیٹ ورک سیٹنگز چیک کرنے اور نئی مواصلاتی سہولیات استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ریگولیٹر کے مطابق صارفین کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے فون میں 4G یا LTE آپشن فعال ہو، جبکہ دستیاب ہونے کی صورت میں Voice over LTE یعنی VoLTE بھی آن کیا جائے۔
پی ٹی اے نے یہ رہنمائی ایسے صارفین کی شکایات کے تناظر میں جاری کی جنہوں نے 4G/LTE نیٹ ورک پر آواز واضح نہ ہونے یا کال ملنے میں تاخیر کی شکایت کی تھی۔ اتھارٹی کے مطابق VoLTE کے ذریعے وائس کال 4G نیٹ ورک پر منتقل ہوتی ہے، جس سے مناسب نیٹ ورک حالات میں آواز کا معیار بہتر اور کال کنکشن نسبتاً تیز ہو سکتا ہے۔ اس سہولت کے لیے موبائل فون، سم کارڈ اور متعلقہ آپریٹر تینوں کا ٹیکنالوجی کو سپورٹ کرنا ضروری ہے۔
ریگولیٹر نے Wi-Fi Calling اور VoWiFi استعمال کرنے کی بھی تجویز دی، خاص طور پر ایسی جگہوں پر جہاں موبائل سگنل کمزور ہو، مثلاً عمارتوں کے اندر یا تہہ خانوں میں۔ اس صورت میں معاون فون اور آپریٹر کے ذریعے صارف وائی فائی کنکشن پر کال کر سکتا ہے۔ پی ٹی اے نے واضح کیا کہ ان سہولیات کی دستیابی ہر فون اور ہر موبائل آپریٹر پر یکساں نہیں، اس لیے صارف کو اپنے آلے اور نیٹ ورک کی مطابقت دیکھنا ہوگی۔
اتھارٹی نے پرانے سم کارڈ استعمال کرنے والوں کو بھی اپنی سم کی 4G سپورٹ کی تصدیق کرنے کا کہا ہے۔ بہت سے پرانے سم کارڈ 4G یا VoLTE کے لیے موزوں نہیں ہوتے، اس لیے ضرورت پڑنے پر صارفین کو موبائل آپریٹر سے نئی معاون سم حاصل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ 4G/LTE تیسری نسل کے موبائل نیٹ ورک کے مقابلے میں زیادہ تیز ڈیٹا سروس فراہم کرتا ہے۔
پی ٹی اے ملک بھر میں نیٹ ورک معیار کی نگرانی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق 8 سے 14 اکتوبر کے دوران پی ٹی اے کے زونل دفاتر نے مختلف علاقوں میں سروس معیار کا جائزہ لیا اور آپریٹرز کو شناخت شدہ کوریج، وائس اور انٹرنیٹ مسائل مقررہ مدت میں حل کرنے کی ہدایات دیں۔ صارفین کے لیے جاری تازہ رہنمائی کا مقصد دستیاب نیٹ ورک ٹیکنالوجی سے بہتر فائدہ اٹھانا ہے، تاہم حقیقی کارکردگی مقامی کوریج، فون، سم اور آپریٹر کی سہولت پر منحصر رہے گی۔

