کراچی/شنگھائی: سندھ حکومت اور چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے صوبے کی ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی حکمرانی کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ ریڈیو پاکستان نے 16 اکتوبر کو اس پیش رفت کو پاکستان کا پہلا ’اے آئی نیٹو ڈیجیٹل صوبہ‘ بنانے کے منصوبے سے جوڑا، جبکہ ایک روز قبل شنگھائی میں سندھ انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کانفرنس کے تناظر میں صوبائی حکومت کی جانب سے متعدد چینی اداروں کے ساتھ تعاون کی کوششیں جاری تھیں۔

یہ معاہدہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے دورۂ چین کے دوران مصنوعی ذہانت، اسمارٹ گورننس اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کے لیے ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آیا۔ اس سے قبل ووہان میں ہواوے کے ڈیجیٹل اربن گورننس ماڈل سائٹ اور مصنوعی ذہانت کمپیوٹنگ مرکز کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے سندھ میں ڈیٹا، اے آئی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال سے شہری خدمات بہتر بنانے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

چینی نظام کے مشاہدے کے دوران سندھ کے وفد کو ایسے شہری انتظامی ماڈلز کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی جو حقیقی وقت کے ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ مانیٹرنگ کو ٹریفک مینجمنٹ، ہنگامی ردعمل، عوامی خدمات اور شہری منصوبہ بندی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بالخصوص کراچی میں ٹریفک، پانی، کچرے، شہری سیلاب اور ہنگامی انتظام کے مسائل کے لیے ڈیجیٹل حل کا امکان اجاگر کیا تھا۔

اس سے پہلے کی سرکاری اور معتبر میڈیا رپورٹس میں ایک ضلع میں سیلاب کی پیشگی اطلاع اور سٹی آپریشنز مینجمنٹ سے متعلق پائلٹ منصوبے، ڈیٹا سینٹرز، ٹیکنالوجی کی منتقلی، پیشہ ورانہ تربیت اور سندھ کی جامعات کے ساتھ تعاون جیسی تجاویز کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم 16 اکتوبر کو سامنے آنے والی مختصر سرکاری اطلاع میں مفاہمتی یادداشت کی مکمل تکنیکی شرائط، مالی حجم، عمل درآمد کی مدت یا ہر منصوبے کی حتمی فہرست جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے ان پہلے سے زیرِ بحث تجاویز کو حتمی معاہدے کی تمام شقیں قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

سندھ حکومت حالیہ عرصے میں ’ڈیجیٹل سندھ‘ کے تصور کے تحت مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اسمارٹ سٹیز اور ڈیجیٹل عوامی خدمات میں سرمایہ کاری اور شراکت داری بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ صوبائی سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی حکام بھی ہواوے کے نمائندوں کے ساتھ اسمارٹ انفراسٹرکچر اور اے آئی کمپیوٹنگ کے امکانات پر بات چیت کرتے رہے ہیں۔

مفاہمتی یادداشت کسی مکمل تجارتی معاہدے یا فوری نفاذ کی ضمانت نہیں ہوتی، اس لیے منصوبے کی اصل پیش رفت کا انحصار بعد کے تکنیکی معاہدوں، مالی انتظام، خریداری کے طریقہ کار اور عملی منصوبہ بندی پر ہوگا۔ موجودہ مرحلے میں تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ سندھ اور ہواوے نے ڈیجیٹل و اے آئی تعاون کے لیے ایم او یو پر دستخط کیے ہیں اور صوبائی حکومت اسے وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبے کا حصہ قرار دے رہی ہے۔