اسلام آباد: ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور یونیورسل سروس فنڈ سے متعلق تین روزہ سمپوزیم کے اختتام پر رکن ممالک نے یونیورسل سروس فنڈز کے روایتی بنیادی کوریج ماڈل کو تیز رفتار فائبر، گیگابٹ براڈبینڈ، سیٹلائٹ رابطے اور مستقبل کی ڈیجیٹل ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مشترکہ سمت پر اتفاق کیا۔ فورم کی میزبانی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور یو ایس ایف پاکستان نے مشترکہ طور پر کی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اے پی ٹی کے سیکریٹری جنرل ماسانوری کونڈو نے سمپوزیم کو عملی تجربات، شراکت داری اور ٹوکیو اسٹیٹمنٹ 2025 کے وعدوں پر پیش رفت کا پلیٹ فارم قرار دیا۔ تین روزہ اجلاس میں پالیسی سازوں، ریگولیٹرز اور ٹیلی کام صنعت کے نمائندوں نے دس سیشنز میں یونیورسل سروس فنڈز کے مستقبل، بنیادی انفراسٹرکچر سے آگے سروس کے معیار اور مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

بحث میں کم لاگت فائبر بیک ہال، موبائل براڈبینڈ، سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی اور ماحول دوست ٹیلی کام انفراسٹرکچر شامل رہے۔ خاص توجہ ان علاقوں پر رہی جہاں دشوار گزار جغرافیہ یا کم آبادی کے باعث روایتی نیٹ ورک کی توسیع مہنگی ہوتی ہے۔ شرکا نے اس بات کا جائزہ لیا کہ یونیورسل سروس فنڈز کو صرف سگنل یا بنیادی رسائی کے بجائے قابل اعتماد اور تیز رفتار ڈیجیٹل خدمات کے نتائج سے کیسے منسلک کیا جا سکتا ہے۔

فورم میں ڈیوائس سبسڈی، ریگولیٹری مراعات اور پائیدار فنانسنگ کے طریقوں پر بھی گفتگو ہوئی تاکہ کم آمدن گھرانوں، چھوٹے کاروباروں اور پسماندہ طبقات کے لیے رابطہ قابل استطاعت بنایا جا سکے۔ خواتین اور لڑکیوں کے لیے ڈیجیٹل خواندگی، ڈیجیٹل کاروبار اور مقامی زبانوں میں موزوں مواد و ای گورنمنٹ خدمات کو بھی ڈیجیٹل فرق کم کرنے کے اہم ذرائع کے طور پر زیر بحث لایا گیا۔

یہ اجلاس کسی ایک ملک کے لیے فوری مالی پیکیج یا کسی مخصوص نیٹ ورک منصوبے کی حتمی منظوری نہیں تھا، بلکہ علاقائی پالیسی اور حکمت عملی کی ہم آہنگی کا فورم تھا۔ یو ایس ایف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو چوہدری مدثر نوید نے اختتامی کلمات میں اے پی ٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، شرکا اور صنعت کے شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔ پاکستان کے لیے اس مباحثے کی اہمیت دور دراز علاقوں میں تیز رفتار رابطے اور ڈیجیٹل شمولیت کے موجودہ اہداف سے جڑی ہے۔