لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ادارے کے مطابق زیرِ حراست افراد پر الزام ہے کہ وہ امریکی شہریوں سے انشورنس کمپنیوں کے نمائندے بن کر رابطہ کرتے، ان کے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کی معلومات حاصل کرتے اور پھر ان معلومات کو غیر مجاز مالی لین دین کے لیے استعمال کرتے تھے۔ یہ تمام نکات تفتیشی ادارے کے ابتدائی دعوے ہیں اور ملزمان کے خلاف الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں ہونا باقی ہے۔
ڈان اور دی نیوز کی رپورٹس کے مطابق این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے بتایا کہ مین بلیوارڈ، گلبرگ میں واقع کال سینٹر کی سرگرمیاں اوپن سورس انٹیلی جنس کے ذریعے مشتبہ قرار دی گئیں۔ اس کے بعد متعلقہ عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کیا گیا اور جمعے کو کارروائی کی گئی۔ حکام نے گرفتار افراد کی شناخت کال سینٹر کے مالک ارشاد احمد بٹ اور ان کے ملازم اورنگزیب کے طور پر بتائی ہے۔
این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ الزام سامنے آیا کہ امریکی شہریوں کو ایک انشورنس مہم کے نام پر فون کیا جاتا تھا۔ حکام کے مطابق رابطہ کرنے والے خود کو انشورنس کمپنیوں کے نمائندے ظاہر کرتے اور صارفین سے کارڈ سے متعلق معلومات حاصل کرتے تھے۔ تفتیشی افسران کا دعویٰ ہے کہ یہ معلومات بعد میں غیر قانونی مالی ٹرانزیکشنز میں استعمال ہوئیں۔ تاہم دستیاب رپورٹس میں مبینہ نقصان کی مجموعی مالیت یا متاثرہ افراد کی حتمی تعداد نہیں بتائی گئی۔
دی نیوز کے مطابق کارروائی کے دوران دو لیپ ٹاپ اور تین موبائل فون بھی تحویل میں لیے گئے۔ این سی سی آئی اے نے کہا کہ آلات کے ابتدائی معائنے میں آن لائن کالنگ سافٹ ویئر اور مبینہ مالی فراڈ سے منسلک ڈیٹا ملا ہے۔ یہ ڈیجیٹل مواد مزید تفتیش اور ممکنہ فرانزک جانچ کا حصہ بن سکتا ہے، اس لیے ابتدائی برآمدگی کو بذاتِ خود عدالتی جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ کارروائی ایسے وقت ہوئی ہے جب این سی سی آئی اے نے حالیہ ہفتوں میں لاہور، کراچی، راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف متعدد چھاپے مارے ہیں۔ بعض سابقہ مقدمات میں غیر ملکی شہریوں کو موبائل فون، بینکاری یا قرض وصولی کے نام پر نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آئے، جبکہ بعض کارروائیوں میں عدالتوں نے گرفتار افراد کو ریلیف بھی دیا۔ اس پس منظر میں ہر کیس کے شواہد اور قانونی حیثیت کو الگ الگ جانچنا ضروری ہے۔
حکام کے مطابق تازہ کیس میں مزید تفتیش جاری ہے۔ آئندہ قانونی مرحلے میں ضبط شدہ ڈیجیٹل آلات، مالی ریکارڈ اور رابطوں کے ڈیٹا کی جانچ اہم ہو سکتی ہے، جبکہ گرفتار افراد کو قانون کے تحت دفاع کا حق حاصل ہے۔
