پاکستان نے سان فرانسسکو میں منعقد ہونے والے ٹیک کرنچ ڈسرپٹ 2026 میں تقریباً 20 پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایک مشترکہ پویلین کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کے سامنے پیش کیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق تین روزہ تقریب 13 سے 15 اکتوبر تک موسکون ویسٹ میں منعقد ہوئی، جہاں پاکستانی کمپنیوں نے مختلف ٹیکنالوجی شعبوں سے متعلق اپنی مصنوعات، خدمات اور اختراعی حل متعارف کرائے۔
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ سلیکون ویلی میں موجودگی کو محض نمائش تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل تجارتی شراکت داری، سرمایہ کاری کے مواقع اور امریکی مارکیٹ میں کاروباری توسیع کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی سفارتی مشنز کی جانب سے امریکی شراکت داروں کے ساتھ کاروباری روابط قائم کرنے میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
رپورٹ کے مطابق سفیر کو پاکستانی کمپنیوں کی مصنوعات اور امریکا میں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوششوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک مسابقتی اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کریں۔ اس مؤقف کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ بین الاقوامی ٹیکنالوجی تقریبات میں شرکت کو برآمدات، سرمایہ کاری اور کاروباری نیٹ ورکنگ کے قابلِ پیمائش مواقع میں تبدیل کیا جائے۔
پاکستانی ٹیکنالوجی شعبہ گزشتہ چند برسوں میں سافٹ ویئر، آئی ٹی خدمات، فِن ٹیک، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل کاروباری ماڈلز کے ذریعے بیرونی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹیک کرنچ ڈسرپٹ جیسے پلیٹ فارم پر اجتماعی قومی موجودگی کمپنیوں کو سرمایہ کاروں، ممکنہ خریداروں اور ٹیکنالوجی شراکت داروں کے ساتھ براہِ راست رابطے کا موقع دیتی ہے۔ تاہم اس تقریب سے حاصل ہونے والے کسی نئے سرمایہ کاری معاہدے یا تجارتی سودے کی مالیت کے بارے میں رپورٹ میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔
اس لیے اس پیش رفت کو فی الحال پاکستان کی ٹیک صنعت کی بین الاقوامی مارکیٹنگ اور کاروباری روابط بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آئندہ مرحلے میں اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ شریک کمپنیاں نمائش کے دوران بننے والے رابطوں کو مستقل معاہدوں، برآمدی آرڈرز یا سرمایہ کاری میں کس حد تک تبدیل کرتی ہیں۔
