مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیٹا تجزیے پر مبنی بولی دھاندلی شناختی نظام کو اسٹینفورڈ کمپیوٹیشنل اینٹی ٹرسٹ کی عالمی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق Bid-Rigging Detection System یا BRDS کا مقصد سرکاری خریداری میں ممکنہ ملی بھگت اور کارٹلائزیشن کی نشان دہی کو شکایات اور دستی جانچ کے روایتی طریقے سے آگے بڑھا کر منظم، ڈیٹا پر مبنی نگرانی میں تبدیل کرنا ہے۔
Computational Antitrust Worldwide کی پانچویں Cross-Agency Report میں 30 مسابقتی اداروں کے تجربات شامل کیے گئے ہیں۔ سی سی پی کے بیان کے مطابق رپورٹ اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ کمپیوٹیشنل اوزار ایسے پیچیدہ پیٹرنز کی شناخت میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں جنہیں روایتی نفاذی طریقوں سے تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سرکاری خریداری کا حجم مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 15 سے 20 فیصد، یعنی سالانہ لگ بھگ 60 ارب ڈالر کے مساوی سمجھا جاتا ہے۔ بڑے اور بکھرے ہوئے ڈیٹا سیٹس، مختلف خریداری اداروں اور کمپنیوں کی ملکیت سے متعلق معلومات کے درمیان خودکار روابط کی کمی کے باعث ماضی میں bid rotation، cover bidding اور متعلقہ فریقوں کی متعدد ٹینڈرز میں شرکت جیسے پیٹرنز کی شناخت مشکل رہی ہے۔
سی سی پی کے مطابق BRDS ترقی کے پیشگی نفاذی مرحلے تک پہنچ چکا ہے اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی، صوبائی خریداری اداروں اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ اس کے نفاذ کے لیے مفاہمت پیدا کی گئی ہے۔ چیئرمین سی سی پی فرید احمد تارڑ کے مطابق نظام بڑے ڈیٹا میں پیچیدہ بولی پیٹرنز کو نشان زد کر کے تفتیشی وسائل کو زیادہ خطرے والے معاملات کی طرف مرکوز کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
رپورٹ میں شمولیت نظام کی بین الاقوامی سطح پر علمی شناخت ہے، مگر یہ بذات خود کسی مخصوص کمپنی یا ٹینڈر میں دھاندلی کا ثبوت نہیں۔ مشتبہ پیٹرن کی شناخت کے بعد باقاعدہ قانونی تفتیش، شواہد اور متعلقہ فریقوں کو سماعت کا حق دینا ضروری ہوگا۔

