وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر کو چین کے ایک خلائی مرکز سے مشن پر روانہ ہوگا۔ انہوں نے یہ اعلان نارووال میں ورلڈ اسپیس ویک کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جو پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن، سپارکو، کے تعاون سے منعقد ہوئی۔
وزارت منصوبہ بندی کے بیان کے مطابق احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان خلائی تحقیق میں چین کے ساتھ تعاون کو وسعت دے رہا ہے اور 2035 تک چاند پر اترنے کا ہدف بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے خلائی ٹیکنالوجی کے زراعت، مواصلات، موسمیاتی نگرانی، تعلیم اور قومی سلامتی میں استعمال کی اہمیت پر زور دیا اور سائنسی تحقیق کو مستقبل کی معاشی و تکنیکی ترقی سے جوڑا۔
ڈان کے مطابق چین نے رواں سال اپریل میں پاکستانی پائلٹس ذیشان علی اور خرم داؤد کو اپنے انسان بردار خلائی پروگرام کے امیدواروں کے طور پر منتخب کیا تھا اور دونوں بیجنگ میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین نے تاحال عوامی طور پر یہ نہیں بتایا کہ دونوں میں سے کون خلا میں جائے گا۔ گزشتہ ماہ سپارکو کے انسانی خلائی پرواز تعاون سے متعلق ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ حتمی انتخاب اکتوبر کے وسط یا آخر تک متوقع ہے۔
منتخب پاکستانی خلا باز چینی ساختہ خلائی جہاز میں سفر کرے گا اور مدار میں پاکستان سے متعلق سائنسی تجربات انجام دینے والے ’پے لوڈ اسپیشلسٹ‘ کے طور پر کام کرے گا۔ یہ مشن پاکستان کے لیے انسان بردار خلائی پروگرام میں عملی شمولیت کا پہلا مرحلہ ہوگا، جبکہ تربیت، لانچ انفراسٹرکچر اور پرواز کے بنیادی انتظامات چین کے خلائی نظام کے تحت ہوں گے۔
احسن اقبال نے تقریب میں کہا کہ ملک کو سائنسی تحقیق، فلکیات اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔ 25 نومبر کی تاریخ وزیر منصوبہ بندی کی جانب سے بتائی گئی ہے؛ مشن کے منتخب خلا باز اور دیگر آپریشنل تفصیلات کے بارے میں متعلقہ چینی اداروں کی حتمی معلومات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔

