اسلام آباد: مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) نے سرکاری خریداری کے ڈیٹا میں ممکنہ گٹھ جوڑ اور مشتبہ بولی کے نمونوں کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی Bid-Rigging Detection System (BRDS) تیار کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس نظام کا مقصد بڑے پیمانے پر پروکیورمنٹ ڈیٹا کو جانچ کر ایسے رجحانات سامنے لانا ہے جن پر مسابقتی قانون کے تحت مزید تحقیق کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں سرکاری خریداری کی سالانہ مالیت کا تخمینہ تقریباً 60 ارب ڈالر بتایا گیا ہے، جبکہ یہ سرگرمی ملکی مجموعی پیداوار کے ایک نمایاں حصے کے برابر ہے۔
نظام کو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی، صوبائی خریداری اداروں اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سمیت مختلف ذرائع کے ڈیٹا کو باہم جوڑنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ سی سی پی کے مطابق ماضی میں بکھرے ہوئے ریکارڈ اور کمپنیوں کی ملکیت سے متعلق معلومات کے ساتھ خودکار ربط نہ ہونے کی وجہ سے bid rotation، cover bidding اور متعلقہ کمپنیوں کی مختلف ٹینڈرز میں شرکت جیسے پیچیدہ نمونوں کو منظم انداز میں پکڑنا مشکل رہا ہے۔
سی سی پی چیئرمین فرید احمد تارڑ کے مطابق کھربوں روپے کی خریداری کی نگرانی صرف شکایات اور ہر ٹینڈر کے دستی جائزے کے ذریعے مؤثر طور پر ممکن نہیں۔ BRDS بڑے ڈیٹا سیٹس میں قیمتوں، بولی کے رویے اور بار بار سامنے آنے والے تعلقات کو جانچ کر زیادہ خطرے والے معاملات کی طرف تفتیشی وسائل مرکوز کرنے میں مدد دے گا۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ سسٹم کا الرٹ کسی کمپنی یا بولی دہندہ کے خلاف خلاف ورزی کا حتمی فیصلہ نہیں ہوگا۔ ہر الرٹ کی الگ تصدیق، شواہد جمع کرنے اور Competition Act 2010 کے تحت قانونی جانچ ضروری ہوگی۔
یہ امتیاز اہم ہے کیونکہ الگورتھم کسی غیر معمولی پیٹرن کو شناخت کر سکتا ہے مگر قانونی ذمہ داری کا تعین ثبوت اور باقاعدہ کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ سی سی پی کے مطابق منصوبے کا ہدف شکایت پر منحصر روایتی نگرانی سے آگے بڑھ کر فعال، منظم اور ڈیٹا پر مبنی مارکیٹ نگرانی قائم کرنا ہے۔ ادارہ توقع کرتا ہے کہ اس سے کارٹلائزیشن کے خلاف نفاذ، منصفانہ مسابقت اور عوامی رقم کے بہتر استعمال میں مدد ملے گی۔
رپورٹ کے مطابق BRDS کو بین الاقوامی سطح پر computational antitrust سے متعلق ایک رپورٹ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستان میں اس کے عملی اثر کا انحصار متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان ڈیٹا انضمام اور ادارہ جاتی تعاون پر ہوگا۔ سی سی پی کا کہنا ہے کہ متعلقہ پروکیورمنٹ ایجنسیوں کے ساتھ مفاہمت موجود ہے، مگر نظام کو مکمل طور پر مؤثر بنانے کے لیے مسلسل اور قابل اعتماد ڈیٹا رسائی بنیادی شرط رہے گی۔
