اسلام آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے افسران کو غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اور مالی دھوکہ دہی سمیت دیگر سائبر جرائم میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف جاری آپریشنز کو زیادہ نتیجہ خیز بنانے کی ہدایت کی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق ڈی جی این سی سی آئی اے نے ایڈیشنل ڈائریکٹر اسلام آباد محمد شعیب خان کے ساتھ اجلاس میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف اقدامات کا جائزہ لیا۔ ایک این سی سی آئی اے عہدیدار کے مطابق اجلاس میں جاری کارروائیوں کی مؤثریت، تفتیشی پیش رفت اور ایسے مراکز کے خلاف نفاذ قانون کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا جو مبینہ طور پر مالی فراڈ یا دوسرے آن لائن جرائم میں استعمال ہوتے ہیں۔

غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں میں یہ فرق اہم ہے کہ کسی مرکز یا فرد کے خلاف شکایت، چھاپہ یا تفتیش بذات خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ فوجداری ذمہ داری کا حتمی تعین قابل قبول شواہد، قانونی کارروائی اور متعلقہ عدالت کے فیصلے کے بعد ہوتا ہے۔ اسی لیے حکام کی جانب سے جن سرگرمیوں کو مشتبہ یا مبینہ فراڈ قرار دیا گیا ہے، انہیں تصدیق شدہ عدالتی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

سائبر فراڈ میں کالز، جعلی شناخت، فشنگ، آن لائن ادائیگیوں اور متاثرین سے مالی یا ذاتی معلومات حاصل کرنے کے مختلف طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ایسے جرائم سرحد پار نیٹ ورکس سے بھی منسلک ہو سکتے ہیں، جس سے ڈیجیٹل شواہد محفوظ کرنا، رقم کی منتقلی کا سراغ لگانا اور متعدد اداروں کے درمیان تعاون تفتیش کا اہم حصہ بن جاتا ہے۔

این سی سی آئی اے پاکستان میں سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے قائم وفاقی ادارہ ہے اور اس کی کارروائیوں کا دائرہ ڈیجیٹل فراڈ، آن لائن استحصال اور دیگر قابل تعزیر سائبر سرگرمیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ڈی جی کی تازہ ہدایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر قانونی کال سینٹرز اس وقت ادارے کی نفاذی ترجیحات میں شامل ہیں۔

شہریوں کے لیے بنیادی احتیاط یہ ہے کہ نامعلوم کال کرنے والوں کو بینکنگ پاس ورڈ، ون ٹائم کوڈ، شناختی معلومات یا مالی تفصیلات فراہم نہ کریں اور مشتبہ رابطے کی صورت میں متعلقہ سرکاری یا مالی ادارے کے تصدیق شدہ چینل سے خود رابطہ کریں۔