بنوں میں ایک روز قبل لاپتا ہونے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے دو اہلکاروں کی لاشیں پیر کو پالوسی کے کمالی قبرستان سے برآمد ہوئی ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 اور مقامی ذرائع نے لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کی۔ جاں بحق اہلکاروں کی شناخت حوالدار اسحاق اور سپاہی عمر حیات کے نام سے ہوئی، دونوں پلاٹون نمبر 59 سے وابستہ تھے۔
رپورٹ کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں اہلکاروں کو اتوار کی شام بنوں کے کرم گڑھی علاقے میں سیفان کوزی خیل سے نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر اغوا کیا تھا۔ یہ علاقہ کینٹ پولیس اسٹیشن کی حدود میں آتا ہے۔ اہلکاروں کے لاپتا ہونے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کردی گئی تھی اور نامعلوم حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ پیر کو لاشیں ملنے کے بعد واقعے کی نوعیت اور ذمہ دار افراد کے تعین کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کی جانب سے اس مرحلے پر کسی گروہ کو ذمہ دار قرار دینے یا حملہ آوروں کی شناخت کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے اغوا اور قتل سے متعلق تفصیلات کو تفتیشی عمل سے مشروط سمجھا جا رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بنوں اور خیبر پختونخوا کے دیگر حصوں میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر تشویش برقرار ہے۔
ڈان نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے ماہانہ اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا، ضم اضلاع کے علاوہ، میں اگست کے دوران دہشت گرد حملوں کی تعداد جولائی کے 36 کے مقابلے میں 54 رہی، یعنی 50 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ تاہم اسی عرصے میں دہشت گرد حملوں سے ہونے والی اموات 69 سے کم ہو کر 44 اور زخمیوں کی تعداد 96 سے کم ہو کر 70 رہ گئی۔ یہ اعدادوشمار صوبے کے وسیع تر سکیورٹی تناظر کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن موجودہ بنوں واقعے کی ذمہ داری یا محرک کے بارے میں خود سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق اس واقعے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل بنوں کینٹ پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایلیٹ فورس کا ایک کانسٹیبل بھی ایک حملے میں جاں بحق ہوا تھا۔ تازہ واقعے میں پولیس اور متعلقہ اداروں کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی اغوا، قتل کے محرک اور ممکنہ ملزمان کے بارے میں حتمی معلومات سامنے آ سکیں گی۔
