اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں 17 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد پاکستان میں 2026 کے دوران رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد پانچ ہو گئی۔ قومی ادارہ صحت کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے پولیو خاتمہ کے مطابق تازہ کیس بنوں کی تحصیل ڈومیل کی یونین کونسل خندار خانخیل سے سامنے آیا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق رواں سال ملک بھر میں سامنے آنے والے پانچ پولیو کیسز میں سے چار بنوں ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ بنوں ضلع میں یہ تیسرا کیس ہے۔ ایک ہی جغرافیائی خطے میں متعدد کیسز کا سامنے آنا وائرس کی مقامی گردش اور ویکسینیشن کی کوریج کے لیے اہم چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔

قومی پولیو پروگرام اور صوبائی ٹیمیں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بار بار ویکسینیشن مہمات، ماحولیاتی نگرانی اور بچوں تک رسائی کی کوششیں کرتی ہیں۔ پولیو کا وائرس خاص طور پر ایسے علاقوں میں برقرار رہ سکتا ہے جہاں بچوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد بار بار ویکسین کی خوراک سے محروم رہ جائے یا صحت ٹیموں کی رسائی محدود ہو۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں سالانہ اندازاً 20 ہزار کیسز کے مقابلے میں پولیو میں 99.8 فیصد کمی حاصل کی تھی۔ 2025 میں ملک میں 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس تاریخی کمی کے باوجود مکمل خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وائرس کی مقامی ترسیل مکمل طور پر رک نہ جائے۔

تازہ کیس کسی ویکسین مہم کی ناکامی کا واحد پیمانہ نہیں، لیکن بنوں ڈویژن میں کیسز کے ارتکاز کے باعث مقامی سطح پر حفاظتی ٹیکوں، نگرانی اور بچوں تک رسائی پر مزید توجہ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ حکام کی جانب سے کیس کی لیبارٹری تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ آئندہ ردعمل میں متاثرہ علاقے اور اس کے گردونواح میں ویکسینیشن اور سرویلنس سرگرمیوں کو مضبوط کیا جانا معمول کا حصہ ہوتا ہے۔