اسلام آباد: نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسدادِ پولیو نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے 2026 کا نیا پولیو کیس رپورٹ ہونے کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد رواں سال پاکستان میں پولیو کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق متاثرہ بچہ جنوبی خیبر پختونخوا کے ایک ایسے علاقے سے تعلق رکھتا ہے جہاں سکیورٹی اور رسائی کے مسائل کے باعث ویکسینیشن ٹیمیں ہر مہم میں تمام بچوں تک مسلسل نہیں پہنچ پاتیں۔
سرکاری پولیو پروگرام کے مطابق رواں سال کے چار میں سے تین کیس جنوبی خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ بنوں ڈویژن اور اس کے ملحقہ علاقوں کو پولیو وائرس کی مسلسل گردش کے حوالے سے خاص نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض یونین کونسلوں میں سکیورٹی سے متعلق رکاوٹوں، آبادی کی نقل و حرکت اور بچوں کے بار بار ویکسین سے محروم رہ جانے سے وائرس کے خاتمے کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔
ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے والدین اور نگہداشت کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ 21 سے 27 ستمبر تک ہونے والی آئندہ گھر گھر قومی پولیو مہم میں پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو قطرے ضرور پلوائے جائیں۔ حکام کے مطابق پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ اس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں؛ تاہم ویکسین کی متعدد خوراکیں بچوں کو مؤثر تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق متاثرہ کیس بنوں کے تحصیل میریان کی ایک یونین کونسل سے رپورٹ ہوا اور ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے پولیو، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے اس کی تصدیق کی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان میں 31 پولیو کیس سامنے آئے تھے، جبکہ 2026 میں اب تک تعداد چار ہے۔ حکام اس کمی کو ویکسینیشن، نگرانی اور ہدفی مہمات میں بہتری سے جوڑتے ہیں، لیکن جنوبی خیبر پختونخوا میں وائرس کی موجودگی کو بدستور اہم خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پولیو پروگرام کا کہنا ہے کہ 2026 میں ملک میں تین بڑی ویکسینیشن مہمات پہلے ہی چلائی جا چکی ہیں، جن کے دوران کروڑوں بچوں تک رسائی کی گئی۔ اس کے ساتھ ہائی رسک علاقوں میں مخصوص زبانی اور انجیکشن ویکسین مہمات بھی جاری رکھی گئی ہیں۔ آئندہ قومی مہم میں تقریباً 31 ملین بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف بتایا گیا ہے، جس میں جنوبی خیبر پختونخوا کے مشکل رسائی والے علاقوں پر خصوصی توجہ شامل ہوگی۔
حکام نے زور دیا ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے صرف ایک مہم کافی نہیں اور ہر بچے کو ہر مہم میں ویکسین کی خوراک ملنا ضروری ہے۔ حکومت نے مذہبی رہنماؤں، مقامی کمیونٹیز اور میڈیا سے بھی کہا ہے کہ ویکسین سے متعلق غلط معلومات کا مقابلہ کریں اور والدین کو بچوں کی باقاعدہ ویکسینیشن کی ترغیب دیں۔




