کراچی: ایئرپورٹ ہیلتھ حکام نے حج اور عمرہ کے لیے بیرون ملک روانہ ہونے والے زائرین کے لیے نادرا سے منسلک ڈیجیٹل ویکسین سرٹیفکیٹ لازمی قرار دینے کی ہدایت جاری کی ہے، جس پر 14 ستمبر 2026 سے عمل درآمد ہونا ہے۔ متعلقہ نوٹیفکیشن کے مطابق زائرین کو روانگی سے پہلے مجاز ویکسینیشن مرکز سے مطلوبہ ویکسین لگوانے اور اپنے ریکارڈ کو نادرا کے نظام سے منسلک کرانے کی ضرورت ہوگی۔

دستیاب ہدایت میں ایئرلائنز کے اسٹیشن مینیجرز اور ٹریول ایجنٹس کو کہا گیا ہے کہ عمرہ اور حج کے مسافروں کو پیشگی آگاہ کیا جائے کہ صرف ایسا ویکسین ثبوت قبول ہوگا جو نادرا کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر منسلک ہو۔ کراچی میں وفاقی حکومت کی سول ڈسپنسری کو بین الاقوامی مسافروں، بالخصوص مذہبی زائرین، کے لیے مجاز ویکسینیشن سہولت کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مطلوبہ ویکسین ریکارڈ میں پولیو، میننجائٹس، زرد بخار اور انفلوئنزا سے متعلق اندراجات شامل ہو سکتے ہیں، تاہم ہر مسافر پر لاگو ویکسین کی حتمی شرط منزل، سعودی عرب کے صحت ضوابط، عمر، طبی حالت اور سفر کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اسی لیے مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ روانگی سے پہلے ایئرلائن، مجاز ہیلتھ مرکز اور وزارتِ مذہبی امور کی تازہ ہدایات ضرور دیکھیں۔

اس معاملے میں بعض میڈیا رپورٹس نے 14 ستمبر کی شرط کو تمام بیرون ملک جانے والے مسافروں تک وسیع قرار دیا، جبکہ دستیاب تفصیلی ہدایت اور ڈان کی رپورٹ میں خاص طور پر حج و عمرہ زائرین کے لیے نادرا سے منسلک ویکسین کارڈ پر زور دیا گیا ہے۔ اس لیے اس خبر میں دائرہ کار کو مذہبی زائرین تک محدود رکھا گیا ہے جب تک متعلقہ وفاقی ادارے تمام بین الاقوامی مسافروں کے لیے الگ اور واضح عمومی نوٹیفکیشن جاری نہ کریں۔

وزارتِ مذہبی امور پہلے ہی حج و عمرہ زائرین کے لیے سعودی حکومت کی صحت شرائط سے متعلق رہنمائی جاری کرتی رہی ہے۔ حج 2026 کی تیاریوں کے دوران بھی زائرین کو میننجائٹس، فلو اور پولیو سمیت مطلوبہ ویکسینیشن اور متعلقہ کارڈ تیار رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ نئی ڈیجیٹل شرط کا مقصد ویکسین ریکارڈ کی قابلِ تصدیق دستاویز فراہم کرنا اور ایئرپورٹ پر کاغذی یا غیر تصدیق شدہ سرٹیفکیٹس سے پیدا ہونے والی مشکلات کم کرنا بتایا گیا ہے۔

مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ آخری وقت کی پریشانی سے بچنے کے لیے پرواز سے کافی پہلے ویکسینیشن اور نادرا اندراج مکمل کریں۔ اگر کسی زائر کے پاس پہلے سے ویکسین کا ریکارڈ موجود ہو تو بھی یہ تصدیق ضروری ہو سکتی ہے کہ اس کا ریکارڈ متعلقہ ڈیجیٹل نظام میں درج اور سفر کے لیے قابلِ قبول ہے۔