پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی (پی وارا) کے چیئرمین اور وزیر مملکت بلال بن ثاقب نے 12 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کے ایک ورچوئل اجلاس سے خطاب میں ڈیجیٹل فنانس، ڈیجیٹل اثاثوں اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے لیے زیادہ مربوط عالمی تعاون اور واضح ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق انہوں نے کہا کہ عالمی بحث کو صرف ڈیجیٹل اثاثوں کے امکانات تک محدود رکھنے کے بجائے ایسے ادارہ جاتی اور قانونی نظام قائم کرنے کی طرف بڑھنا چاہیے جو نئی نسل کے مالیاتی ڈھانچے کو ذمہ داری کے ساتھ منظم کر سکیں۔
اجلاس کا موضوع پائیدار ترقی کے لیے ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین تھا اور اسے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے یو این ڈی پی، یو این سی ٹی اے ڈی اور سیکریٹری جنرل کے نمائندہ برائے ٹیکنالوجی کے دفتر کے تعاون سے منعقد کیا۔ اس میں رکن ممالک، اقوام متحدہ کے اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے، ٹوکنائزیشن اور ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی ابھرتی معیشتوں کے لیے مالیاتی شمولیت، ادائیگیوں کی کارکردگی اور سرمائے تک رسائی بہتر بنانے کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
انہوں نے ٹوکنائزیشن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے بانڈز یا قابل تجدید توانائی کے منصوبوں جیسے اثاثوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے سرمایہ جمع کرنے کے نئے راستے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی سرکاری اخراجات اور سپلائی چینز میں شفافیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اجلاس میں ادائیگیوں، ترسیلاتِ زر، مالی شمولیت، ڈیجیٹل شناخت، سرمائے کی فراہمی اور ٹریس ایبلٹی جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔
پاکستانی وزیر نے اس کے ساتھ خطرات کی نشاندہی بھی کی۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں میں ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے اتار چڑھاؤ، غیر قانونی مالی سرگرمیوں، طاقت کے ارتکاز اور مختلف ملکوں کی ریگولیٹری صلاحیت میں بڑھتے فرق جیسے مسائل موجود ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بہت دیر سے آنے والی ضابطہ سازی صارفین اور منڈیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جبکہ خوف پر مبنی سخت ردعمل سرگرمی کو کم شفاف ماحول میں دھکیل سکتا ہے۔
ان کا موقف تھا کہ ضابطہ سازی کو صرف پابندی کے آلے کے بجائے محفوظ اور قابل اعتماد منڈی بنانے کے طریقے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی تجربات، نگرانی کے معیارات اور ادارہ جاتی صلاحیت میں باہمی تعاون بڑھائیں۔ یہ خطاب پاکستان کی اس پالیسی سمت کا حصہ ہے جس میں ورچوئل اثاثوں کو ریگولیٹڈ مالیاتی ماحول میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم سرکاری بیان میں کسی نئے پاکستانی ضابطے، لائسنس یا فوری پالیسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا؛ گفتگو کا محور عالمی تعاون اور اصولی ریگولیٹری سمت تھی۔




