8 ستمبر 2026 کو امریکی حکومت نے بعض چینی مصنوعی ذہانت کمپنیوں پر امریکی اے آئی ٹیکنالوجی کو غیر مجاز طریقے سے نقل کرنے کے الزامات عائد کیے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے ڈیپ سیک، مون شاٹ اے آئی اور علی بابا سمیت چھ کمپنیوں کا نام لیا اور دعویٰ کیا کہ ان کمپنیوں نے ڈسٹلیشن نامی طریقہ استعمال کرتے ہوئے امریکی ماڈلز کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا۔

ڈسٹلیشن سے مراد عمومی طور پر ایک ایسا تکنیکی طریقہ ہے جس میں چھوٹے یا مختلف ماڈلز کو زیادہ طاقتور ماڈلز کے نتائج سے سیکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ خود تکنیکی تحقیق میں مختلف صورتوں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن امریکی حکام کا الزام ہے کہ زیر بحث سرگرمیاں غیر مجاز طور پر امریکی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے کی گئیں۔

رائٹرز کے مطابق امریکی الزامات میں کہا گیا کہ بعض سرگرمیوں سے امریکی ٹیکنالوجی اور سلامتی کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب چین نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور موقف اختیار کیا کہ ڈسٹلیشن ایک غیر جانب دار اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا تکنیکی طریقہ ہے۔ چینی حکام نے امریکہ پر مسابقت کو دبانے اور دوہرے معیار کے استعمال کا الزام بھی لگایا۔

یہ معاملہ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی مسابقت کے وسیع تر پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیٹا سے متعلق ٹیکنالوجیز اب دونوں بڑی معیشتوں کے درمیان اقتصادی اور تزویراتی اختلافات کے اہم شعبے بن چکے ہیں۔

چونکہ یہ الزامات اور جوابی موقف دو مختلف حکومتوں کی جانب سے سامنے آئے ہیں، اس لیے ان کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ طور پر تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ امریکی حکومت نے مخصوص چینی کمپنیوں پر الزامات عائد کیے اور چین نے ان کی تردید کی۔ کسی قانونی کارروائی یا مزید شواہد کی صورت میں معاملے کی نوعیت مزید واضح ہو سکتی ہے۔