وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور اضافی کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی ہے۔ وزارت تجارت کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کو دی گئی بریفنگ کے مطابق 500 ڈالر سے زیادہ قیمت والے اسمارٹ فون پر مقررہ ریگولیٹری ڈیوٹی 22 ہزار روپے سے کم کر کے 17 ہزار 600 روپے فی فون کر دی گئی ہے، یعنی اس سلیب میں 4 ہزار 400 روپے یا 20 فیصد کمی ہوئی۔
نظرثانی شدہ ڈھانچے کے تحت 30 ڈالر تک کے مکمل تیار شدہ اسمارٹ فون پر ریگولیٹری ڈیوٹی 300 سے کم ہو کر 240 روپے، 30 سے 100 ڈالر تک کے فون پر 3 ہزار سے 2 ہزار 400 روپے، 100 سے 200 ڈالر تک 7 ہزار 500 سے 6 ہزار روپے، 200 سے 350 ڈالر تک 11 ہزار سے 8 ہزار 800 روپے اور 350 سے 500 ڈالر تک 15 ہزار سے 12 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔
وزارت تجارت کے مطابق درج شدہ اسمارٹ فون اور سیلولر فون کیٹیگریز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی 6 فیصد سے کم کر کے 4 فیصد کر دی گئی ہے۔ سی کے ڈی اور ایس کے ڈی حالت میں درآمد کیے جانے والے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 5 فیصد سے گھٹا کر 4 فیصد اور اضافی کسٹمز ڈیوٹی 6 فیصد سے 4 فیصد کر دی گئی۔
حکومت نے ان تبدیلیوں کو نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت وسیع تر ٹیرف ریشنلائزیشن کا حصہ قرار دیا ہے۔ وزارت کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی اسمارٹ فون اور سیلولر فون درآمدات 1.497 ارب ڈالر سے بڑھ کر 1.888 ارب ڈالر ہوئیں، جبکہ مکمل تیار شدہ اسمارٹ فونز کی درآمدات دوگنا سے زیادہ ہو کر 357.7 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی 2020-25 کی مدت ختم ہو چکی ہے اور نئی پالیسی کو ابھی وفاقی حکومت کی منظوری نہیں ملی۔ تاہم سابق پالیسی کے تحت مقامی مینوفیکچررز اور اسمبلرز کو حاصل مراعات کسٹمز ایکٹ 1969 کے پانچویں شیڈول کے تحت محفوظ ہیں۔
قومی اسمبلی کی کمیٹی میں موبائل فون ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کے مجوزہ نظام پر بھی بحث ہوئی۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق ایف بی آر اور پی ٹی اے کے کردار سے متعلق وضاحت طلب کی گئی اور کمیٹی نے وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کو آئندہ اجلاس میں جامع بریفنگ دینے کی ہدایت کی۔




