اسلام آباد: پاکستان میں سائبر فراڈ کے واقعات نے گزشتہ تین برس کے دوران لاکھوں شہریوں کو مالی نقصان پہنچایا ہے۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق مجموعی طور پر 227,757 افراد نے اس مدت میں سائبر فراڈ کا شکار ہونے کی شکایات رپورٹ کیں اور ان مقدمات میں بتائے گئے مالی نقصان کی مجموعی مالیت 8 ارب 32 کروڑ روپے رہی۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو موصول ہونے والی شکایات کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 83,080 افراد نے سائبر فراڈ کی شکایت کی، 2025 میں یہ تعداد 76,646 رہی جبکہ اگلے سال 68,031 افراد نے ایسے واقعات رپورٹ کیے۔ یہ اعداد درج شدہ شکایات کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہر شکایت میں جرم کے حتمی عدالتی ثبوت یا رقم کی بازیابی لازماً ثابت نہیں ہوتی۔
رپورٹ کے مطابق متاثرین میں آٹھ موجودہ یا سابق پارلیمنٹیرینز بھی شامل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل مالیاتی دھوکہ دہی مختلف سماجی اور پیشہ ورانہ طبقات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ سائبر فراڈ میں عموماً جعلی رابطوں، آن لائن شناخت کے غلط استعمال، مالی اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی یا دھوکہ دہی کے دیگر ڈیجیٹل طریقوں سے شہریوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، تاہم موجودہ اعداد میں ہر کیس کی الگ نوعیت بیان نہیں کی گئی۔
این سی سی آئی اے ملک میں سائبر جرائم کی تحقیقات کرنے والا مرکزی وفاقی ادارہ ہے۔ بڑی تعداد میں شکایات ادارے کے لیے تفتیشی صلاحیت، ڈیجیٹل شواہد کے تحفظ، بینکوں اور ٹیلی کام اداروں کے ساتھ رابطے اور سرحد پار ڈیجیٹل لین دین کا سراغ لگانے جیسے چیلنجز کو نمایاں کرتی ہے۔
8.32 ارب روپے کا مجموعی رپورٹ شدہ نقصان یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ سائبر سکیورٹی اب صرف تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ صارفین کے مالی تحفظ کا اہم معاملہ بن چکا ہے۔ شہریوں کے لیے مشکوک لنکس، نامعلوم کالز، ون ٹائم پاس ورڈ اور بینکنگ معلومات سے متعلق احتیاط بنیادی دفاعی اقدامات میں شامل ہے، جبکہ فراڈ ہونے کی صورت میں فوری رپورٹنگ رقم کے بہاؤ کو روکنے اور شواہد محفوظ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
دستاویزات میں درج اعداد و شمار شکایات اور رپورٹ شدہ نقصانات پر مبنی ہیں۔ ہر انفرادی کیس کی تفتیش، ملزمان کی ذمہ داری اور ممکنہ ریکوری کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اور عدالتی عمل کے ذریعے الگ سے ہوتا ہے۔




