واشنگٹن: مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور اس کے ممکنہ انتہائی سنگین خطرات سے متعلق محققین کے حالیہ بیانات کے بعد امریکا میں دونوں بڑی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز نئے حفاظتی اور نگرانی کے قواعد پر زور دے رہے ہیں۔ بحث اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب اینتھروپک سے وابستہ محققین نے کہا کہ مستقبل کے زیادہ طاقتور اے آئی نظام انسانوں کے لیے تباہ کن خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ خطرے کے تخمینے ماہرین کی آرا ہیں، کسی یقینی پیش گوئی یا ثابت شدہ نتیجے کے طور پر نہیں دیکھے جا سکتے۔

اینتھروپک کے سابق محقق جیکب کوکسن نے استعفے کے بعد دعویٰ کیا کہ اے آئی بنانے والے بعض افراد واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی دہائی کے اختتام تک انسانیت کے لیے مہلک خطرہ بن سکتی ہے۔ اینتھروپک کے سائنس دان ایون ہوبنگر نے بھی انتہائی شدید خطرے کا ذاتی تخمینہ پیش کیا۔ ان بیانات کے بعد ڈیموکریٹ سینیٹر مارک کیلی نے واشنگٹن سے معاملہ سنجیدگی سے لینے کا مطالبہ کیا، جبکہ ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے اے آئی کے تباہ کن خطرات سے متعلق قانون سازی کی طرف اشارہ کیا۔

فلوریڈا سے ریپبلکن رکن کانگریس انا پالینا لونا نے ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن سے اے آئی پر خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اے آئی کے باعث انسانی معدومیت کے خدشے پر تشویش نہیں اور ان کی توجہ عالمی اے آئی مقابلے، بالخصوص چین کے مقابل امریکی برتری، پر ہے۔ امریکی حکومت نے اسی ماہ جی20 ممالک میں نسبتاً کم مداخلت پر مبنی ریگولیٹری نقطۂ نظر کی حمایت بھی کی ہے۔

کانگریس میں زیر بحث اقدامات صرف عمومی سیاسی بیانات تک محدود نہیں۔ سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون اور ڈیموکریٹ سینیٹر ایمی کلوبوچار ایک ایسے بل پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد اے آئی مصنوعات کے بعض خطرات کے لیے ضابطہ بنانا ہے۔ کلوبوچار کے مطابق طاقتور ماڈلز کی جانچ میں حکومتی ماہرین کی شمولیت ہونی چاہیے، جبکہ تھون پہلے کہہ چکے ہیں کہ مجوزہ قانون میں تباہ کن نوعیت کے خطرات کو شامل کیا جائے گا۔

امریکی ایوان کے چھ ارکان پر مشتمل دو جماعتی گروپ نے جولائی میں ایک الگ تجویز پیش کی تھی جس کے تحت سب سے طاقتور اے آئی ماڈلز تیار کرنے والی کمپنیوں کو آزاد سکیورٹی آڈٹ کرانا پڑ سکتا ہے۔ تجویز کے مطابق آڈیٹرز کو محکمہ تجارت سے منظوری ملے گی اور اے آئی سکیورٹی کی نگرانی کے لیے ایک نیا عہدہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ کیلیفورنیا نے رواں ہفتے آزاد آڈیٹرز کے ذریعے اے آئی مصنوعات کی جانچ سے متعلق ریاستی قواعد بھی منظور کیے ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اندر بھی حفاظتی پالیسی پر بحث جاری ہے۔ اینتھروپک نے کہا ہے کہ وہ سائبر سکیورٹی اور حیاتیات جیسے حساس شعبوں میں ماڈلز کی خطرناک صلاحیتوں کی سخت جانچ جاری رکھے گا۔ رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے بھی امریکا میں قومی سطح پر لازمی اے آئی حفاظتی تقاضوں کی حمایت کی ہے۔

اگلا اہم سوال یہ ہوگا کہ امریکی قانون ساز اختراع اور قومی مسابقت کو برقرار رکھتے ہوئے کتنی سخت پیشگی جانچ، آزاد آڈٹ اور حکومتی نگرانی نافذ کرتے ہیں۔ فی الحال متعدد تجاویز زیر بحث ہیں، لیکن تمام اقدامات قانون بن چکے ہیں ایسا نہیں؛ اس لیے موجودہ مرحلے کو تیز ہوتی ریگولیٹری بحث سمجھنا زیادہ درست ہے۔