اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کے معیار پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندوں کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید امین الحق کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جہاں اراکین نے کال ڈراپ، کمزور سگنل اور انٹرنیٹ کی ناقص رفتار سے متعلق شکایات اٹھائیں۔

کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے پوچھا کہ سروس معیار کی خلاف ورزیوں پر آپریٹرز کے خلاف کیا کارروائی کی گئی اور کتنے جرمانے عائد ہوئے۔ اراکین کا مؤقف تھا کہ اسپیکٹرم سے متعلق حالیہ اقدامات کے باوجود صارفین کو نمایاں بہتری محسوس نہیں ہو رہی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آپریٹرز کو براہ راست بلا کر نیٹ ورک کی کارکردگی، سرمایہ کاری اور سروس معیار کے بارے میں وضاحت لی جائے۔

اجلاس میں موبائل فون پر عائد ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اراکین نے صارفین پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے متبادل طریقوں اور پالیسی آپشنز پر معلومات طلب کیں۔ یہ گفتگو ایسے وقت ہو رہی ہے جب اسمارٹ فون تک رسائی، موبائل براڈبینڈ اور ڈیجیٹل خدمات روزمرہ معاشی و تعلیمی سرگرمیوں میں زیادہ اہم ہو چکی ہیں۔

کمیٹی نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی پاکستان میں باضابطہ موجودگی اور سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی بات کی اور متعلقہ حکام سے کہا کہ عالمی کمپنیوں کو مقامی مارکیٹ میں لانے کے لیے کوششیں کی جائیں۔ تاہم اجلاس میں ایپل کی جانب سے پاکستان میں کسی سرمایہ کاری، اسٹور یا مینوفیکچرنگ منصوبے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے یہ معاملہ فی الحال پارلیمانی کمیٹی کی خواہش اور پالیسی ہدایت کی سطح پر ہے۔

کمیٹی کی کارروائی کا اگلا اہم مرحلہ ٹیلی کام کمپنیوں کی وضاحت اور پی ٹی اے کے نفاذی ریکارڈ کا جائزہ ہوگا۔ اگر آپریٹرز سے سرمایہ کاری، نیٹ ورک اپ گریڈ یا معیار بہتر بنانے کے لیے قابل پیمائش اہداف طلب کیے جاتے ہیں تو صارفین کے لیے عملی نتائج زیادہ واضح ہو سکیں گے۔ موجودہ اجلاس نے بنیادی طور پر سروس معیار، ریگولیٹری نگرانی اور ڈیجیٹل ڈیوائسز کی لاگت کو ایک ہی پالیسی بحث میں نمایاں کیا ہے۔