سان فرانسسکو: مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک نے اپنی تازہ تھریٹ انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایسے متعدد آپریشنز کی نشاندہی کر کے انہیں بند کیا جن میں اس کے کلاڈ ماڈلز کو ریاستی یا ریاست سے منسلک نگرانی اور جاسوسی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ کمپنی کے مطابق رپورٹ میں دسمبر 2025 سے اگست 2026 تک سامنے آنے والی مختلف اقسام کی مبینہ بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کا جائزہ شامل ہے۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ نگرانی سے متعلق بعض کیسز چین، ایران اور مغربی افریقہ سے منسلک تھے اور ان میں تارک وطن، سیاسی مخالف یا مخصوص اقلیتی برادریوں کی شناخت اور نگرانی کے لیے اے آئی کی مدد لی گئی۔ کمپنی کے مطابق ہانگ کانگ کے جمہوریت پسند کارکن، تبتی اور فالون گونگ برادریاں اور بیرون ملک ایرانی مخالفین یا اقلیتی گروہ بعض کارروائیوں کے ممکنہ اہداف میں شامل تھے۔ یہ تفصیلات اینتھروپک کی اپنی تحقیق اور انتساب پر مبنی الزامات ہیں، آزاد عدالتی نتائج نہیں۔

کمپنی نے ایک کیس میں ایرانی عناصر پر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے افراد کی شناخت کے لیے نظام تیار کرنے کا الزام لگایا، جبکہ ایک دوسرے کیس میں مالی کی قومی سلامتی سے منسلک ایک کنٹریکٹر کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے کلاڈ کو انٹیلی جنس جمع کرنے والے سافٹ ویئر کے ڈیزائن میں استعمال کیا۔ اینتھروپک نے کہا کہ اس نے متعلقہ سرگرمیوں کو روکا، حفاظتی اقدامات مضبوط کیے اور جہاں مناسب سمجھا وہاں حکام یا صنعتی شراکت داروں کے ساتھ معلومات شیئر کیں۔

رپورٹ میں سائبر آپریشنز، اثرانداز ہونے کی مہمات، نگرانی، فراڈ، حیاتیاتی تحقیق کے ممکنہ غلط استعمال، روایتی ہتھیاروں اور دوسرے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے غیر مجاز ڈیٹا استعمال جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ زیادہ صلاحیت رکھنے والے ماڈلز نے بعض حملہ آوروں کے لیے تکنیکی مہارت اور افرادی قوت کی ضرورت کم کر دی ہے، جس سے کم وسائل رکھنے والے عناصر بھی زیادہ تیزی اور پیمانے پر پیچیدہ کارروائیاں کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

اینتھروپک نے چینی کمپنیوں مون شاٹ اور ڈیپ سیک پر بھی الزام لگایا کہ انہوں نے کلاڈ کے جوابات کو اپنے ماڈلز بہتر بنانے کے لیے خفیہ طور پر استعمال کیا۔ کمپنی کے مطابق ایک دس روزہ عرصے میں مون شاٹ سے منسلک سرگرمی کے ذریعے تقریباً تین لاکھ صارف درخواستیں ہزاروں مبینہ جعلی اکاؤنٹس کے نیٹ ورک سے اینتھروپک تک پہنچائی گئیں۔ ان دعوؤں کی ذمہ داری اینتھروپک پر ہے اور متعلقہ کمپنیوں کے مکمل جوابات رپورٹ میں شامل نہیں تھے۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے اینتھروپک رپورٹ کے ردعمل میں کہا کہ چین مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کی حمایت کرتا ہے اور حقائق مسخ کرنے، چین پر حملوں اور بدنام کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔ اس ردعمل کے باعث رپورٹ کے چین سے متعلق حصوں کو متنازع دعووں کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

اینتھروپک کی رپورٹ وسیع تر بحث کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز کے غلط استعمال کی نگرانی کس حد تک خود کمپنیوں، حکومتوں اور آزاد نگران اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہونی چاہیے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اپنے حفاظتی نظام میں تبدیلیاں جاری رکھے گی اور مستقبل میں مشتبہ استعمال کی نشاندہی اور روک تھام کے لیے دیگر فریقوں سے تعاون کرے گی۔