اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کے معیار پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندوں کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈان کے مطابق کمیٹی کے چیئرمین امین الحق اور دیگر ارکان نے کہا کہ حالیہ اسپیکٹرم نیلامی کے بعد صارفین کو معیار میں واضح بہتری محسوس ہونی چاہیے تھی، مگر متعدد علاقوں میں کال اور ڈیٹا سروس سے متعلق شکایات برقرار ہیں۔
کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے گزشتہ چھ ماہ میں کمپنیوں کو کیے گئے جرمانوں اور وصول شدہ رقوم کی تفصیل بھی مانگی۔ پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ اتھارٹی شہروں میں سروس کے معیار کی نگرانی اور سروے کرتی ہے اور کمپنیوں کو نیٹ ورک بہتر بنانے کے لیے مہلت دی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق ریگولیٹر زیادہ سے زیادہ 350 ملین روپے تک جرمانہ کر سکتا ہے، تاہم بعض کمپنیوں کی جانب سے عدالتی حکم امتناع لینے اور مقدمات زیر سماعت ہونے کی وجہ سے نفاذ کے معاملات پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ 5G کے آغاز کے بعد سروس معیار میں بہتری آ رہی ہے اور کمپنیوں کے لیے رول آؤٹ اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ ایک رکن کے مطابق کراچی میں 5G سائٹس کی تعداد 279 تک پہنچ چکی ہے۔ آئی ٹی سیکریٹری ضرار ہاشم خان نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں نے بین الاقوامی معیار کے مطابق آلات نصب کیے ہیں اور مارچ میں ہونے والی 5G اسپیکٹرم نیلامی میں حکومت نے صرف آمدنی کے بجائے سروس معیار کو ترجیح دی تھی۔ کمیٹی نے ان سرکاری دعوؤں کے ساتھ صارفین کی شکایات کا تقابل کرنے کے لیے کمپنیوں کو براہ راست جواب دینے کے لیے بلانے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی پاکستان میں ممکنہ مینوفیکچرنگ موجودگی بھی زیر بحث آئی۔ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حامد منصور نے کمیٹی کو بتایا کہ ایپل کو پاکستان کے مینوفیکچرنگ شعبے میں لانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ دورہ امریکا کے دوران ایپل کے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنس سے ملاقات کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کوششیں اور مذاکرات کسی حتمی سرمایہ کاری یا مینوفیکچرنگ معاہدے کی تصدیق نہیں ہیں۔
ای ڈی بی کے مطابق پاکستان میں اس وقت 37 کمپنیاں موبائل فون تیار کر رہی ہیں اور مقامی طور پر 35 ملین سے زیادہ ڈیوائسز بنائی جا چکی ہیں، جبکہ بڑی عالمی اسمارٹ فون کمپنیوں میں ایپل وہ نمایاں نام ہے جو ابھی مقامی مینوفیکچرنگ نہیں کر رہا۔ کمیٹی نے درآمدی موبائل فونز پر ٹیکس اور اقساط میں ادائیگی کے ممکنہ طریقہ کار پر بھی گفتگو کی۔ پی ٹی اے نے واضح کیا کہ موبائل فون ٹیکس مقرر کرنا یا اقساط کا نظام بنانا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں اور یہ معاملات فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے متعلق ہیں۔




