اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے چیئرمین اظفر منظور نے کہا ہے کہ حکومت خصوصی ٹیکنالوجی زونز کو محض رہائشی ترقی تک محدود رکھنے کے بجائے ٹیکنالوجی اور صنعتی سرگرمیوں کے مراکز بنانے کی سمت بڑھ رہی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ملک ابرار احمد کی زیر صدارت ہوا، جس میں اتھارٹی کی کارکردگی، انتظامی ڈھانچے، موجودہ زونز اور توسیعی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

اظفر منظور کے مطابق پالیسی کا مقصد ایسے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو ٹیکنالوجی اور صنعتی یونٹس قائم کریں اور روزگار و معاشی سرگرمی پیدا کریں۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے متعلق انتظامات کے تحت خصوصی زونز کی مراعات 2035 تک برقرار رہ سکتی ہیں، تاہم ان فوائد کو بتدریج زیادہ پیداواری اور صنعتی سرگرمیوں کی طرف منتقل کرنے پر زور ہے۔ اس وضاحت کو مراعات کے مکمل خاتمے کے بجائے ان کے استعمال کی ترجیحات میں تبدیلی کے طور پر پیش کیا گیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایس ٹی زیڈ اے محدود افرادی قوت کے ساتھ کام کر رہی ہے اور ملک میں نئے زونز کے لیے درخواستوں اور زیرعمل منصوبوں پر کارروائی جاری ہے۔ چیئرمین اتھارٹی کے مطابق 20 زونز فعال ہیں جبکہ متعدد دیگر پر پیش رفت ہو رہی ہے۔ اسلام آباد کے بی-17 علاقے سمیت ایسے منصوبوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے جہاں رہائشی سہولتوں کو ٹیکنالوجی اور صنعتی سرگرمی کے ساتھ جوڑا جا سکے۔ اتھارٹی نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے 140 ایکڑ اراضی حاصل کرنے کی بھی اطلاع دی، جہاں صنعتی زون، آئی ٹی پارک اور تجارتی و رہائشی سہولتوں پر مشتمل مربوط منصوبہ زیر غور ہے۔

قومی اسمبلی کی سرکاری پریس ریلیز کے مطابق قائمہ کمیٹی کو ایس ٹی زیڈ اے کے قانونی مینڈیٹ، ٹیکنالوجی زونز کے قیام اور آئی ٹی و ٹیکنالوجی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی ارکان نے نگرانی مضبوط بنانے، سرمایہ کاری میں اضافہ، علاقائی توازن اور ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔ پالیسی کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اعلان کردہ زونز میں کتنی نئی پیداواری سرمایہ کاری، ملازمتیں اور قابل پیمائش ٹیکنالوجی سرگرمیاں سامنے آتی ہیں۔