اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن جماعتوں سے پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آنے اور انتخابی اصلاحات کے عمل میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو مؤثر بنانے کی ذمہ داری حکومت اور اپوزیشن دونوں پر عائد ہوتی ہے اور انتخابی نظام سے متعلق اعتراضات کا حل پارلیمانی فورمز کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے کہا کہ وہ اپنے منصب کا اختیار استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن اراکین کی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں نامزدگیاں یقینی بنائیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر اپوزیشن مستقبل کے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق خدشات کا حل چاہتی ہے تو اسے اس کمیٹی میں شریک ہوکر قواعد اور اصلاحات پر براہ راست کام کرنا چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کمزوری سے تمام منتخب نمائندوں کی سیاسی قوت متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومتی بنچوں کو بھی پارلیمان فعال رکھنے کی ذمہ داری یاد دلائی اور کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے حلقوں کے مسائل اور قومی معاملات پارلیمانی پلیٹ فارم پر اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے ملک کی سکیورٹی اور معیشت سے متعلق پیش رفت پر پارلیمنٹ کو بریفنگ دینے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ قانون ساز آئندہ چیلنجز اور حکومتی حکمت عملی سے آگاہ رہیں۔

قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں پارلیمنٹ کو ریاستی طاقت کا مؤثر سرچشمہ بنانے پر زور دیا اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان سیاسی رابطے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی قوتوں کو ماضی کے تنازعات سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔ اچکزئی نے حکومت میں مبینہ بدعنوانی کی جانچ کے لیے اپنی سابقہ تجویز کردہ کمیٹی کا بھی حوالہ دیا۔

اسی روز پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے محمود خان اچکزئی سے ملاقات کرکے بلاول بھٹو کا پیغام پہنچایا۔ وفد میں سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف شامل تھے، جبکہ ملاقات میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس جعفری اور تحریک انصاف کے بعض سینیٹرز بھی موجود تھے۔ راجا پرویز اشرف کے مطابق اپوزیشن لیڈر نے پیغام کا خیرمقدم کیا۔

یہ پیش رفت کسی باضابطہ حکومت اپوزیشن معاہدے یا انتخابی اصلاحات پر اتفاق رائے کا اعلان نہیں ہے۔ فی الحال یہ پارلیمانی شرکت بحال کرنے اور مذاکرات کا راستہ کھولنے کی سیاسی اپیل ہے۔ اس کے عملی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اپوزیشن جماعتیں کمیٹیوں کے لیے نامزدگیاں کرتی ہیں یا نہیں، اور انتخابی اصلاحات کے کن نکات پر حکومت اور حزب اختلاف قابل عمل اتفاق پیدا کر پاتے ہیں۔