پشاور: انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ریڈیو پاکستان پشاور پر مئی 2023 کے حملے سے متعلق مقدمے میں سہیل آفریدی سمیت پانچ افراد کے گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔ عدالتی کارروائی میں یہ پیش رفت پولیس کی جانب سے جمع کرائے گئے ضمنی چالان کے بعد ہوئی، جس میں پانچوں افراد کو بعد ازاں ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ یہ وارنٹ گرفتاری کسی عدالتی فیصلے یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں بلکہ مقدمے میں نامزد افراد کی عدالت کے سامنے حاضری اور قانونی کارروائی آگے بڑھانے کا مرحلہ ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ضمنی چالان میں سہیل آفریدی کے علاوہ سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش، پی ٹی آئی پشاور کے ضلعی صدر عرفان سلیم اور پارٹی کارکن امیر خان چمکنی کے نام شامل ہیں۔ یہ افراد ابتدائی ایف آئی آر یا پہلے چالان میں نامزد نہیں تھے۔ سماعت کے دوران جج ولی محمد خان نے اس بنیاد پر وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت کی کہ ضمنی چالان میں نامزد پانچوں افراد کو ابھی گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 204 کے تحت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔
رپورٹ کے مطابق ضمنی تفتیش میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا سے متعلق مواد بھی شامل کیا گیا۔ تفتیشی افسر کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ریڈیو پاکستان پشاور کے اسٹیشن ڈائریکٹر نے فرانزک نتائج کی روشنی میں ایک ضمنی بیان ریکارڈ کرایا، جس کے بعد پانچ افراد کو ملزم نامزد کیا گیا۔ فرانزک رپورٹ میں ویڈیو کلپس میں دکھائی دینے والے بعض افراد کے چہروں اور نامزد اشخاص کے درمیان مماثلت کا ذکر کیا گیا، جبکہ نادرا کے مواد میں شناختی تفصیلات سے متعلق ممکنہ مماثلت بیان کی گئی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی سے وابستہ افراد نے متعلقہ ویڈیو مواد کی صحت اور اس کے مئی 2023 کے واقعے سے تعلق پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس لیے استغاثہ کے دعوے اور دفاع کے اعتراضات ابھی عدالتی جانچ کے مراحل سے گزریں گے۔ مقدمے میں کسی بھی شخص کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین عدالت ہی کرے گی۔
ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملے کا مقدمہ سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد مئی 2023 میں ہونے والے ہنگاموں سے متعلق ہے۔ موجودہ کارروائی میں عدالت نے اگلی سماعت 4 نومبر مقرر کی ہے۔ اس مرحلے پر خبر کا بنیادی عدالتی نتیجہ وارنٹس کا اجرا اور ضمنی چالان پر کارروائی ہے، نہ کہ کسی ملزم کے خلاف سزا یا حتمی عدالتی فیصلہ۔

