لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سیاسی، سماجی اور صوبائی فریقوں کے ساتھ محاذ آرائی بڑھانے کے بجائے رابطہ اور مکالمہ اختیار کرے اور عوام کو درپیش معاشی مسائل کو ترجیح دے۔ انہوں نے یہ بات لاڑکانہ میں 600 بستروں کے ایک ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریق اگر باہمی اختلافات کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کریں تو موجودہ چیلنجز کا بہتر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بیک وقت داخلی سیاسی کشیدگی، دہشت گردی اور خطے میں جاری تنازعات کے معاشی اثرات کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے سیاسی قوتوں کے درمیان مسلسل تصادم قومی مسائل کے حل کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بوجھ سے دنیا کے مختلف حصوں کے عوام متاثر ہو رہے ہیں اور پاکستان بھی اس سے الگ نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ ختم ہونے کی صورت میں بھی اس کے اقتصادی نتائج فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے، اس لیے حکومتوں کے لیے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ایک اہم امتحان ہے۔

انتخابی اصلاحات کے بارے میں بلاول نے کہا کہ پاکستان میں اپوزیشن جماعتیں عموماً حکومت پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں، اس لیے انتخابی اصلاحات کمیٹی اس دیرینہ تنازع کو حل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف سمیت اپوزیشن کو کمیٹی میں مساوی نمائندگی کے ساتھ شامل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر اپوزیشن اصلاحاتی عمل میں شرکت نہیں کرتی تو بعد میں شکایات کا وزن کم ہو سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اصولی طور پر منتخب حکومتوں کو برقرار رکھنے کو ترجیح دیتی ہے، تاہم دہشت گردی ان کی جماعت کے لیے ایک اہم حد ہے۔ انہوں نے وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کی اور کہا کہ حالات سازگار ہوں تو گورنر راج کے خاتمے کی حمایت کی جائے گی۔ یہ سیاسی مؤقف پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا بیان ہے؛ صوبائی حکومت اور دیگر جماعتوں کے اپنے الگ مؤقف موجود ہیں۔

بلاول کے تازہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب وفاقی حکومت اور بعض اپوزیشن و صوبائی سیاسی قوتوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ ان کی اپیل کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ سیاسی کشمکش کو محدود کرکے معاشی دباؤ، سکیورٹی اور انتخابی نظام جیسے معاملات پر وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔