اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے تعلیمی نظام میں انتظامی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ایک خودمختار ایجوکیشن اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز پر کام تیز کر دیا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی نظام کے لیے تیز رفتار اور قابل عمل اصلاحاتی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور خودمختار اتھارٹی کے قیام کی تجویز کی بھی تائید کی ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق احسن اقبال نے آئی سی ٹی ایجوکیشن ریفارمز کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے کہا کہ مجوزہ اصلاحات کو واضح مدت اور قابل پیمائش اقدامات کے ساتھ عملی فریم ورک میں تبدیل کیا جائے۔ اصلاحات کا مقصد تعلیمی معیار، رسائی اور جواب دہی بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔
مجوزہ اتھارٹی کے لیے ایسا بورڈ آف گورنرز تشکیل دینے کی تجویز ہے جس میں آزاد ارکان کی اکثریت ہو، جبکہ چیف ایگزیکٹو افسر کا انتخاب میرٹ پر کیا جائے۔ وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ادارے کے فرائض، اختیارات اور قواعد کار واضح ہونے چاہئیں تاکہ نئی انتظامی ساخت ذمہ داریوں کے ابہام کا شکار نہ ہو۔
متعلقہ حکام کو ضروری قانون سازی اور منتقلی کا روڈ میپ 60 روز کے اندر تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ شرط رکھی گئی ہے کہ نئی اتھارٹی کی طرف منتقلی کے دوران وفاقی نظامت تعلیم کی موجودہ سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور اسکولوں و دیگر تعلیمی اداروں کے روزمرہ انتظام میں تعطل پیدا نہ ہو۔
اجلاس میں وفاقی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 1,100 اساتذہ کی مجوزہ بھرتی کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔ احسن اقبال نے بھرتی کے موجودہ عمل کا جائزہ لینے اور باصلاحیت نوجوان پیشہ ور افراد کو راغب کرنے کے لیے کنٹریکٹ پر تقرری کے متبادل ماڈل پر غور کرنے کا کہا۔ یہ ابھی پالیسی تجویز ہے اور حتمی بھرتی طریقہ کار کا اعلان نہیں کیا گیا۔
وفاقی نظامت تعلیم اس وقت اسلام آباد میں 432 تعلیمی اداروں کی نگرانی کرتی ہے، جبکہ دارالحکومت میں نجی اسکولوں، غیر رسمی تعلیمی اداروں اور خصوصی تعلیم کے مراکز کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ مجوزہ اصلاحات کے نتائج اس بات پر منحصر ہوں گے کہ قانون سازی، انتظامی منتقلی اور اساتذہ و اسکولوں کی سطح پر عمل درآمد کس حد تک مؤثر اور مسلسل رہتا ہے۔
