لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے لاہور میں دو مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپے مار کر 12 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ ڈان کے مطابق کارروائیاں جمعہ کو باٹا پور میں سلوشن ہب اور پنجاب ہاؤسنگ سوسائٹی میں ٹاسک ٹیکر نامی مراکز پر کی گئیں۔
ایجنسی نے بتایا کہ چھاپے قابل اعتماد معلومات کی بنیاد پر اور مجاز عدالت سے حاصل کردہ سرچ وارنٹس کے تحت کیے گئے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں الزام سامنے آیا ہے کہ ان مراکز سے کینیڈا، امریکا اور دیگر ممالک کے شہریوں کو موبائل فون اپ گریڈ، نیٹ ورک پیکجز اور سم ڈیلز کی جعلی پیشکشوں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا تھا۔ یہ الزامات ابھی تحقیقاتی مرحلے میں ہیں اور گرفتار افراد کے خلاف حتمی ذمہ داری عدالت میں شواہد کی بنیاد پر طے ہوگی۔
تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر کال کرنے والے خود کو معروف ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے نمائندے ظاہر کرتے تھے اور متاثرین سے مالی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایجنسی نے الزام لگایا کہ حاصل کردہ معلومات کو غیر قانونی مالی لین دین اور کارڈ فراڈ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
پہلی کارروائی میں ایک خاتون اور چھ مرد گرفتار کیے گئے، جبکہ دوسری جگہ سے ایک خاتون اور چار مردوں کو حراست میں لیا گیا۔ حکام نے دونوں مقامات سے مجموعی طور پر 13 لیپ ٹاپ، دو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور 13 موبائل فون قبضے میں لینے کی اطلاع دی ہے۔ ضبط شدہ ڈیجیٹل آلات کی فرانزک جانچ تحقیقات کا اہم حصہ بن سکتی ہے کیونکہ اس سے کال ریکارڈز، اکاؤنٹس، رابطوں اور ممکنہ مالی لین دین کے بارے میں شواہد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
این سی سی آئی اے نے دونوں کارروائیوں کے سلسلے میں الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں۔ مقدمہ درج ہونا الزام کی قانونی کارروائی کا آغاز ہے، سزا یا جرم ثابت ہونے کا متبادل نہیں۔ ملزمان کو قانون کے تحت دفاع اور عدالتی سماعت کا حق حاصل رہے گا۔
پاکستان میں سائبر فراڈ اور سرحد پار آن لائن دھوکہ دہی کے خلاف کارروائیوں میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے مقدمات میں مقامی ڈیجیٹل شواہد کے ساتھ بیرون ملک متاثرین، ادائیگی کے ریکارڈ اور ٹیلی کمیونیکیشن ڈیٹا سے تعاون بھی اہم ہو سکتا ہے۔ اس کیس میں مزید پیش رفت تفتیش، ڈیجیٹل فرانزک اور عدالتی کارروائی کے بعد واضح ہوگی۔
