خیبر پختونخوا میں ہزارہ موٹروے پر ایک مسافر گاڑی کے حادثے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد جاں بحق اور تقریباً 30 زخمی ہو گئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حادثہ جمعہ کو پیش آیا، جس کے بعد ریسکیو اور موٹروے حکام نے جائے وقوع پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں منتقل کیا گیا۔
حادثے میں متاثر ہونے والی گاڑی میں بڑی تعداد میں مسافر سوار تھے۔ ابتدائی اطلاعات میں آٹھ اموات کی تصدیق کی گئی جبکہ زخمیوں کی تعداد تقریباً 30 بتائی گئی۔ بعض زخمیوں کی حالت کے بارے میں فوری طور پر مکمل تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے گاڑی اور سڑک کے اطراف سے متاثرین کو نکال کر ایمبولینسوں کے ذریعے اسپتال پہنچایا۔
ہزارہ موٹروے اسلام آباد اور ہزارہ ڈویژن کے درمیان اہم سفری راستہ ہے اور روزانہ بڑی تعداد میں مسافر و مال بردار گاڑیاں اسے استعمال کرتی ہیں۔ حادثے کے بعد متعلقہ حکام نے ٹریفک کو منظم رکھنے اور امدادی گاڑیوں کے لیے راستہ کھلا رکھنے کی کوشش کی۔ پولیس اور موٹروے حکام حادثے کے اسباب کا تعین کر رہے ہیں، اور رفتار، گاڑی کی فنی حالت یا ڈرائیونگ سے متعلق کسی حتمی نتیجے کا اعلان تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے نہیں کیا گیا۔
پاکستان میں بین الاضلاعی شاہراہوں اور موٹرویز پر بڑے مسافر حادثات کے بعد عموماً گاڑیوں کی فٹنس، ڈرائیوروں کے آرام کے اوقات، رفتار کی نگرانی اور حفاظتی ضابطوں پر عمل درآمد کے سوالات دوبارہ سامنے آتے ہیں۔ تاہم اس مخصوص حادثے کے بارے میں ذمہ داری یا کسی خلاف ورزی کا تعین متعلقہ تفتیشی اداروں کی رپورٹ کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
حادثے کے متاثرین کے اہل خانہ کو اطلاع دینے اور زخمیوں کے علاج کے لیے مقامی انتظامیہ اور طبی اداروں نے انتظامات کیے۔ حکام کی جانب سے شناخت اور طبی حالت سے متعلق مزید معلومات مرحلہ وار جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر طویل فاصلے کے مسافر سفر میں حفاظتی اقدامات، گاڑیوں کی باقاعدہ جانچ اور ہنگامی ردعمل کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔
